دنیا

امریکی صدر جو بائیڈن نے مسلمان ممالک پر عائد سفری پابندی ختم کر دی

کویت اردو نیوز 21 جنوری: امریکہ کے 46 ویں صدر جو بائیڈن کے دورِ صدارت کا آغاز صدارتی حکم ناموں سے ہوا ہے اور انھوں نے پہلے ہی دن 15 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے ہیں۔

ان صدارتی حکم ناموں میں متنازع سفری پابندیوں کا خاتمہ، پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بحالی اور تمام وفاقی املاک میں لازمی ماسک پہننے کے بل پر دستخط کیے گئے ہیں۔ جو بائیڈن کے زیادہ تر حکم نامے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں کو ختم کرنے سے متعلق ہیں۔ جو بائیڈن حلف اٹھانے کے بعد اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں پہنچنے کے لیے انھوں نے سیاست کے میدان میں 50 برس کا وقت گزارا لیکن شاید انہوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ صدارت کے پہلے ہی دن انھیں متعدد بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نو منتخب صدر کی انتظامیہ جو کہ ایوانِ صدر ’وائٹ ہاؤس‘ کا حصہ کہلاتی ہے، کے چیف آف سٹاف رونلڈ کلائین نے کچھ روز پہلے ہی بائیڈن کے پہلے چند دنوں کے اقدامات کے بارے میں ایک یادداشت جاری کی تھی۔ اس یادداشت میں کہا گیا تھا کہ جو بائیڈن صدر بنتے ہی چند اہم معاملات میں رخصت ہونے والے صدر ٹرمپ کے کئی اقدامات کو کالعدم قرار دینے کے حکم نامے جاری کریں گے اور امریکی قوم کو درپیش بڑے بڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا اعلان کریں گے۔

سابق صدر ٹرمپ نے جنوری 2017 میں امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے سات دن بعد جن سفری پابندیوں کا اعلان کیا تھا، نئے صدر جو بائیڈن نے ان کا خاتمہ کر دیا ہے۔

ابتدائی طور پر ان پابندیوں کا نشانہ سات مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک بنے تھے تاہم بعد میں عدالتی احکامات کے بعد ان پابندیوں میں کچھ تبدیلیاں بھی لائی گئی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن، وینزویلا اور شمالی کوریا کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔

جو بائیڈن نے امیگریشن کے حوالے سے جو ایک اور اہم وعدہ کیا تھا وہ ملک میں موجود ایک کروڑ دس لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کے لیے امریکی شہریت کی راہ ہموار کرنے کے اقدامات تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں جلد ہی کانگریس میں ایک مسودۂ قانون بھیجیں گے۔ اس قانون کے مسودے کے بارے میں تارکینِ وطن کی تنظیم نیشنل امیگریشن فورم کے سربراہ پاکستانی نژاد علی نورانی کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکہ میں موجود غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے آٹھ برس کا ایک قانونی راستہ مہیا کیا جائے گا تاکہ وہ امریکی شہری بن سکیں جبکہ بچپن سے آئے تارکینِ وطن کے لیے اس سے بھی مختصر عرصہ ہو گا۔

حوالہ
بی بی سی اردو
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button