دنیا

کویت پروازوں کی معطلی کے بعد پانچ ہزار ہوٹلز کی بکنگ منسوخ

کویت اردو نیوز 24 دسمبر: تجارتی پروازوں کی معطلی کے بعد پانچ ہزار ہوٹلز کی بکنگ منسوخ ہوگئی۔

تحریر جاری ہے‎

تفصیلات کے مطابق کویت ہوائی اڈے پر تجارتی پروازوں کی معطلی کے بعد آنے والے مسافروں کی جانب سے 5،000 ہوٹلوں کی بکنگ منسوخ کردی گئی۔

سرکاری ذرائع نے انکشاف کیا کہ غیر ممنوعہ ممالک میں بڑی تعداد میں ہوٹلز میں کمرے بک کروانے والے مسافروں نے کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی کے بعد بکنگز منسوخ کردیں جسکے بعد رقم کی وصولی کے لئے ہوٹلوں اور کچھ ٹریول دفاتر کے مابین ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے۔

کابینہ کے گذشتہ روز یکم جنوری 2021 تک کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آنے اور جانے والی تمام تجارتی پروازوں کو معطل کرنے کے فیصلے کے باعث سیاحت، ٹریول کمپنیوں اور ٹرانزٹ ممالک میں ہوٹلوں کے مابین شدید نوعیت کی پریشانی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ بیشتر ہوٹلز نئے سال کی تعطیلات کے دوران رقم واپسی کی آفر نہیں کرتے ہیں۔ سب سے بڑی پریشانی ان مسافروں کے لئے ہے جنہوں نے فیصلہ جاری ہونے سے پہلے ان ہوٹلوں میں پیشگی بکنگ کروائی تھی۔

ذرائع کے مطابق 2 دن میں 3،000 ہزار سے زیادہ درخواستیں رقم کی واپسی کے لئے دی گئیں جو آنے والے عرصے میں کسی بحران کا سبب بن سکتی ہیں۔

ذرائع نے تصدیق کی کہ سفر اور سیاحت کے دفاتر کا منافع “نو فلائی” کے دوران بکنے والے کل ٹکٹوں پر 3 فیصد سے زیادہ نہیں ہے لیکن پروازوں کی معطلی کے نتیجے میں IATA سسٹم پر 25،000 ٹکٹ منسوخ ہوگئے ہیں۔ اسکے علاوہ ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے ائیر لائنز پر بکنے والے 15،000 ٹکٹ بھی بک تھے جو کینسل کردیئے گئے جس کے بعد منسوخ شدہ ٹکٹوں کی تعداد 40000 ہوگئی جس کا مطلب یہ ہے کہ پروازوں کو روکنے کے حالیہ فیصلے کی وجہ سے سیاحت اور ٹریول آفس ممکنہ طور پر KD180،000 دینار کے منافع سے محروم ہوجائیں گے۔

وزیر صحت شیخ ڈاکٹر باسل الصباح نے بیان دیتے ہوئے ہوئے کہا کہ کویت نے نئے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے تمام ضروری اور فعال اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہوائی اڈے کو بند کرنے کا فیصلہ ملک کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔

حوالہ
ٹائمز کویت
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ