دنیا

بابری مسجد کی جگہ نئی مسجد کا انوکھا ڈیزائن جاری

انڈیا میں اتر پردیش سنی وقف بورڈ نے ایودھیا میں تعمیر ہونے والی مسجد کا خاکہ یا بلیوپرنٹ عوامی طور پر پیش کر دیا ہے۔

تحریر جاری ہے‎

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں آرکیٹیکٹ ایس ایم اختر نے مسجد اور ہسپتال کے ڈیزائن کو پیش کیا۔ اس مسجد میں بیک وقت 2000 لوگ نماز پڑھ سکیں گے جبکہ خواتین نمازیوں کے لیے بھی یہاں ایک الگ جگہ بنائی جائے گی جبکہ مسجد کے احاطے میں ہی ایک ہسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا۔ ایک کمیونٹی کچن اور انڈو اسلامک ثقافت ریسرچ سینٹر بھی مسجد کے قریب بنایا جائے گا تاہم فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس مسجد کا نام بابری مسجد ہوگا یا کچھ اور۔ وقف بورڈ کے حوالے سے اخبار نے کہا ہے کہ اسلام میں بھومی پوجا یعنی سنگِ بنیاد رکھنے کے وقت خصوصی عبادت کا تصور نہیں ہے لہٰذا مسجد کے لیے اس طرح کا کوئی پروگرام نہیں ہوگا تاہم مسجد کی بنیاد 26 جنوری 2021 یا 15 اگست 2021 کو رکھی جائے گی۔ رام جنم بھومی اور بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتر پردیش سنی وقف بورڈ نے انڈو اسلامی ثقافت فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ٹرسٹ تشکیل دیا تھا جس کی ذمہ داری ایودھیا کے قریب مسجد تعمیر کرنا ہے۔ یہ مسجد بابری مسجد سے چار گنا بڑی ہوگی اور اس میں تین سو بستروں والا ہسپتال ہوگا۔

انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن نے مسجد کے خاکے کی تصویر اور ویڈیوز ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہیں جن پر لوگوں کا مختلف ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔ لوگ اس مسجد کی خوبصورتی اورانوکھے انداز کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک صارف پوجا اوستھی لکھتی ہیں یہ رواتی مساجد کی طرح نہیں لگ رہی، اس میں نہ مینار ہوں گے اور نہ ہی گنبد۔ ایک اور صارف آکاش بینرجی نے ممکنہ رام مندر اور نئی مسجد کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’خوبصورت فنِ تعمیر کے نمونے۔‘ ایک صارف اندرجیت کور نے لکھا کہ ’ایودھیا مسجد ہسپتال کے ساتھ۔ اسے کہتے ہیں دانشمندانہ فیصلہ اور ایک زبردست آغاز۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ وہ ایودھیا مندر کے لیے بھی یہی چاہتی تھیں۔ انھوں نے مسجد کے مجوزہ منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے اسے انسانیت اور خدا دونوں کی خدمت قرار دیا تاہم تمام لوگ اس نئے ڈیزائن سے خوش نظر نہیں آتے۔

ایک صارف نے لکھا کہ وہ اس نئے ڈیزائن سے خوش نہیں ہیں اور اسے بابری مسجد جیسا ہی ہونا چاہیے تھا تاہم انھوں نے لکھا کہ اس سے مسلمانوں کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ ایودھیا میں متنازع بابری مسجد کو ہندو شدت پسند گروہوں نے 6 دسمبر 1992 کو شہید کر دیا تھا اور اس کے بعد ہی اس قطعہ زمین کی ملکیت کے حوالے سے ایک مقدمہ الہٰ آباد کی ہائیکورٹ میں درج کروایا گیا تھا۔ 28 سال کی طویل عدالتی جنگ کے بعد انڈیا کی سپریم کورٹ نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے ایک بینچ نے مندر مسجد کے اس تنازعے کا متفقہ طور پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم فریق کو ایودھیا کے اندر کسی نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے ایک متبادل پانچ ایکڑ زمین دی جائے۔ عدالت نے مرکز اور اتر پردیش کی ریاستی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس متبادل زمین کا انتظام کریں۔

حوالہ
بی بی سی اردو
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ