دنیا

پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کے ویزوں پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سامنے آ گئی۔

پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کے ویزوں پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سامنے آ گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان، افغانستان اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کو نئے ویزا کے اجرا کا عمل سیکیورٹی خدشات کے باعث عارضی طور پر روک دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سیکیورٹی خدشات کس نوعیت کے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ یہ پابندی مختصر عرصے کے لیے ہے۔

گزشتہ ہفتے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سمیت متعدد ممالک کو وزٹ ویزا کے اجرا کا عمل عارضی طور پر غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یو اے ای انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر کیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام سے سرکاری طور پر تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ معطلی کا اطلاق پہلے سے جاری کردہ ویزوں پر نہیں ہوگا۔

یو اے ای کے سرکاری بزنس پارک سے جاری دستاویز میں کہا گیا تھا کہ امارات نے ایران، شام اور صومالیہ سمیت 13 ممالک کے شہریوں کو نئے ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔

پارک میں آپریٹ کرنے والی کمپنیوں کو بھیجی گئی اس دستاویز میں امیگریشن سرکولر کا حوالہ دیا گیا تھا جس کا اطلاق 18 نومبر کو ہوا۔

دستاویز میں کہا گیا کہ پاکستان، افغانستان، لیبیا اور یمن سمیت 13 ممالک کے شہریوں کی جانب سے نئی ملازمت اور وزٹ ویزا کے لیے دائر درخواستیں اگلے حکم تک ملتوی کردی گئی ہیں۔ ویزا پابندیوں کا اطلاق الجیریا، کینیا، عراق، لبنان، تیونس اور ترکی کے شہریوں کے لیے بھی کیا گیا ہے۔

یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ اس پابندی سے ان ممالک کے شہریوں کو کوئی چھوٹ حاصل ہے یا نہیں۔ یو اے ای کی فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈنٹٹی اینڈ سٹیزن شپ نے ابتدائی طور پر بیان جاری نہیں کیا تھا۔

حوالہ
ٹائمز کویت
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ