دنیا

پاکستانی خاتون دبئی میں لاپتہ ہو گئی، اہل خانہ کی مدد کی اپیل

دبئی: 9 نومبر کو لاپتہ ہونے والی 41 سالہ خاتون کا سراغ لگانے کے لئے اہل خانہ بے چین ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دبئی میں ایک 41 سالہ پاکستانی خاتون 9 نومبر سے لاپتہ ہے اور اس کا شوہر اس کی تلاش کے لیے شدت سے مدد مانگ رہا ہے۔

محسنہ 4 میں رہنے والے 50 سالہ مختار علی نے بتایا کہ ” 9 نومبر کی صبح میں کام پر جانے کے لئے گھر سے نکلا اور اپنی اہلیہ قرة العین (اینی) کو ناشتے کی میز پر آخری بار دیکھا تھا۔ جب میں شام تقریبا 6 چھ بجے واپس آیا تو دیکھا کہ گھر کا دروازہ بند تھا۔ میں نے دستک دی لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ میں نے کبھی بھی گھر کی زائد چابی اپنے ساتھ نہیں رکھی کیونکہ میری بیوی کبھی گھر سے باہر نہیں جاتی تھی چنانچہ میں نے سیکیورٹی گارڈ سے ماسٹر چابی حاصل کی اور اپنے گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ میری بیوی اندر نہیں تھی۔ میں نے میز پر وہی ناشتے کی پلیٹوں کو دیکھا۔ اینی گھر میں موجود نہیں تھی اس نے اپنے ساتھ کچھ نہیں لیا تھا یہاں تک کہ اس کا موبائل فون بھی گھر پر پڑا تھا۔

میں نے اسے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے گھر تلاش کیا لیکن میں اسے تلاش نہیں کر سکا۔ میں نے قریبی اسپتالوں کا معائنہ کیا۔ پھر میں نے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی اور پاکستانی قونصل خانے سے بھی مدد طلب کی۔

اینی کا 21 سالہ بیٹا عمید علی جو امریکہ میں مقیم ہے نے بھی اپنی والدہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔ اور لوگوں سے اپیل کی کہ “براہ کرم میری والدہ کی تلاش میں مدد کریں جو (9 نومبر) سے لاپتہ ہیں ہم سب بہت پریشان ہیں۔”

مختار اور اینی کی شادی کو 22 سال ہو چکے ہیں۔ وہ دونوں کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور طویل عرصے سے دبئی کے رہائشی ہیں۔

مختار نے کہا کہ انہیں اپنی بیوی کے جانے کے سبب کی کوئی وجہ نہیں مل سکتی ہے۔ مختار نے نوٹ کیا کہ “جب میں نے اسے بتایا کہ اسے کورونا وائرس وبائی بیماری سے وابستہ مالی پریشانیوں کی وجہ سے پاکستان واپس جانا پڑے گا تو شاید وہ اس وجہ سے پریشان تھی ” مختار نے مزید کہا کہ “اس ڈپریشن کی وجہ سے اس کا طبی علاج کرایا گیا تھا۔ شاید اس کا ڈپریشن بڑھ گیا تھا کیونکہ وہ متحدہ عرب امارات چھوڑنا نہیں چاہتی تھی لیکن اس کا ویزا منسوخ کردیا گیا تھا اور میں اس کا ٹکٹ بھی بک کروا چکا تھا۔ مختار نے مزید کہا کہ وہ 16 نومبر کو پاکستان واپس گھر جانے والی تھی۔

حوالہ
گلف نیوز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ