دنیا

متحدہ عرب امارات غیر ملکیوں کو شہریت دینے کے لیے تیار

کویت اردو نیوز 03 اکتوبر: متحدہ عرب امارات نے تارکین وطن کو شہریت دینے کا فیصلہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے غیر ملکیوں کو امارات کی شہریت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شہریت کے قانون میں ترمیم کے بعد سرمایہ کار، کاروباری حضرات، پیشہ ور اور خصوصی قابلیت رکھنے والے افراد اماراتی شہری بن سکیں گے۔

متحدہ عرب امارات اپنے ہاں مروج شہریت کے قوانین میں ترامیم کررہا ہے۔ان کے تحت مختلف شرائط پر پورا اترنے والے غیرملکی تارکین وطن کو اب یو اے ای کی شہریت دی جاسکے گی۔ سعودی ٹی وی چینل “العربیہ” کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزارت انصاف نے ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے اس میں شہریت کے قوانین میں مجوزہ ترامیم کی صراحت کی گئی ہے۔

ترمیمی ضوابط کے مطابق اب سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، پیشہ ور حضرات اور خصوصی ٹیلنٹ کے حامل افراد کو یو اے ای کی شہریت دی جاسکے گی۔ یو اے ای کے شہریت کے قانون میں دو اور ترامیم بھی کی گئی ہیں۔

ان کے تحت امارات کا پاسپورٹ جس مقصد کے لیے جاری کیا جائے گا اس کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ دوسری ترمیم کے تحت پاسپورٹ کو صرف طے شدہ قانونی مقاصد کے لیے جاری کیا جائے گا۔ غیر قانونی استعمال کی صورت میں اس کو ضبط کر لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: امیر کویت کی قبر پر شہری اور تارکین وطن کی بڑی تعداد کی حاضری

ترمیمی قانون کے تحت درج ذیل شرائط پورا کرنے والے غیرملکیوں کو یو اے ای کی شہریت دی جاسکے گی:

  1. ان غیرملکیوں کو اپنی اصل شہریت یا کسی دوسرے ملک کی قومیت سے دستبردار ہونا ہوگا۔
  2. وہ ملک میں قانونی طور اور مسلسل اقامت گزیں ہوں۔
  3. عربی زبان بولنے میں مہارت تامہ رکھتے ہوں۔
  4. وہ روزگار کے قانونی ذرائع کے حامل ہوں۔
  5. تعلیمی اہلیت کے حامل ہوں۔
  6. اچھے اخلاق وکردار کے حامل ہوں۔
  7. شہریت کے درخواست گزار مرد/عورت کو کسی جرم میں سزایافتہ نہیں ہوناچاہیے۔انھیں ایسی کسی غلط روی کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے جس کی وجہ سے عزت وتوقیر اور اعتماد کو نقصان پہنچا ہو۔
  8. انھیں سکیورٹی سے منظوری لینا ہوگی۔
  9. انھیں ریاست سے وفاداری کا حلف لینا ہوگا۔

شہریت ایکٹ میں ایک ترمیم کے تحت اگر کوئی غیرملکی عورت کسی اماراتی شہری سے شادی کرتی ہے تو اس کو اس قانون کی شق (5) سے مستثنیٰ قرار دیا جاسکتا ہے۔

حوالہ
العربیہ
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ