ٹیکنالوجی

جونسن اینڈ جونسن کی تیار کردہ کوویڈ19 ویکسین کے مثبت نتائج وصول

کویت اردو نیوز 27 ستمبر: جونسن اینڈ جونسن کمپنی کی جانب سے تیار کی جانے والی کوویڈ19 ویکسین کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جے اینڈ جے کوویڈ19 ویکسین ابتدائی آزمائش میں مضبوط مدافعتی ردعمل پیدا کرتی ہے۔ جمعہ کو شائع ہونے والے عبوری نتائج کے مطابق جانسن اینڈ جانسن کے تجرباتی کوویڈ 19 ویکسین کی ایک خوراک نے ابتدائی سے درمیانی مرحلے کے کلینیکل آزمائش میں نول کورونا وائرس کے خلاف ایک مضبوط مدافعتی ردعمل پیدا کیا ہے۔

نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ویکسین جسے Ad26.COV2.S کہا جاتا ہے کی دو خوراک سے ہی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اس سے قوت مدافعت میں اضافہ سامنے آیا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس ویکسین کے استعمال سے بزرگ افراد اور وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرہ رکھنے والی آبادیوں کو نوجوانوں کی طرح وائرس سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔

ایک ہزار کے قریب صحتمند بالغوں پر اس ویکسین کا تجربہ کیا گیا ہے جسے امریکی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ جولائی میں جے اینڈ جے کی ویکسین کا بندروں پر تجربہ کیا گیا تھا جن میں ایک ہی خوراک میں مضبوط تحفظ اور قوت مدافعت پیدا ہوگئی تھی۔ موجودہ نتائج کی بنیاد پر جے اینڈ جے نے بدھ کے روز 60،000 افراد کے ایک آخری کلینکل ٹرائل کا آغاز کیا ہے جس سے ریگولیٹری منظوری کے لئے درخواست کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔کمپنی نے کہا کہ اسے سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع تک فیز 3 ٹرائل کے نتائج کی توقع ہے۔

محققین جن میں جے اینڈ جے کی یونٹ جانسن فارماسیوٹیکل کے افراد بھی شامل ہیں نے بتایا کہ عبوری تجزیہ کے لئے دستیاب اعداد و شمار کے ساتھ 98 فیصد افراد کی اینٹی باڈیز کو بے اثر کر رہے ہیں جو ویکسین کے 29 دن بعد خلیوں کا دفاع کررہے ہیں تاہم مدافعتی ردعمل کے نتائج صرف ایک مختصر سی تعداد کے لوگوں سے ہی دستیاب ہوسکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ویکسین دریافت ہونے کے بعد ہی کویت ایئرپورٹ مکمل بحال کیا جائے گا

65 سال سے زیادہ عمر کے شرکاء میں تھکاوٹ اور پٹھوں میں درد جیسے منفی ردعمل کی شرح 36 فیصدتھی جو نوجوان شرکاء میں پائے جانے والے فیصد کے مقابلے میں بہت ذیادہ ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں میں مدافعتی ردعمل زیادہ مضبوط نہیں ہوسکتا ہے۔محققین نے کہا کہ مطالعہ مکمل ہونے پر حفاظت اور تاثیر سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

ہارورڈ ٹی ایچ کے پروفیسر ڈاکٹر بیری بلوم جو ویکسین کے تجربے اور ٹرائل میں شامل نہیں تھے نے Reuters کو بتایا کہ سنگین مضر اثرات کی تلاش کے لئے بڑی تعداد میں مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔ بلوم نے کہا کہ “مجموعی طور پر ویکسین وہی کر رہی ہے جو آپ اس کی توقع کریں گے چاہے اگر آپ اسے فیز 3 ٹرائلز میں منتقل کردیں تو بھی نتائج وہی ہونگے۔

حوالہ
روزنامہ الأنباء
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ