پاکستان

إمارات کی جانب سے پاکستانی ویزوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے پاکستانیوں کو ورک ویزوں کے اجرا روکنے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تردید کردی۔

تحریر جاری ہے‎

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستانی افرادی قوت کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں لگی ہے’۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹس میں زلفی بخاری نے کہا کہ ‘میڈیا رپورٹس کے برخلاف یو اے ای کے وزیر برائے انسانی وسائل ناصر بن تھانوی الحملی نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستانی افرادی قوت کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات ان کارکنوں کو ترجیح دے رہا تھا جو ورچوئل لیبر مارکیٹ ڈیٹابیس پر رجسٹرڈ تھے اور کوویڈ 19 کی وجہ سے ہونے والی معاشی بحران کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔یہ ٹوئٹس ان خبروں کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان، افغانستان اور متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کو عارضی طور پر نیا ویزا جاری کرنا بند کردیا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی افرادی قوت میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

زلفی بخاری نے کہا کہ عرب ریاست 10 سالہ گولڈن ویزا کے لیے درخواستوں کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے یو اے ای کی قیادت کے ساتھ تعاون کے لیے مستعد ہیں’۔

حکمراں جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے متحدہ عرب امارات کے وزیر سے زلفی بخاری کے ساتھ ورچوئل ملاقات کے بارے میں بھی ٹوئٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے معاون خوصی ‘پاکستانی افرادی قوت پر پابندی سے متعلق منفی رپورٹس کو ختم کرنا’ چاہتے ہیں۔

چند روز قبل میڈیا رپورٹس آئی تھیں کہ متحدہ عرب امارات نے عارضی طور پر پاکستان سمیت 12 ممالک کے شہریوں کو ویزا جاری کرنا بند کردیا ہے۔

دفتر خارجہ نے گزشتہ ہفتے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے فیصلے کو ‘کووڈ 19 کی دوسری لہر کے تناظر میں سمجھا جائے’۔

دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا تھا کہ ‘ہم اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام سے باضابطہ تصدیق کے خواہاں ہیں’۔

حوالہ
ڈان نیوز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ