پاکستان

عالمی قدر کے لحاظ سے پاکستانی اور بھارتی پاسپورٹ کی قدر

اسلام آباد 08 جولائی: کسی ملک کی طاقت یا ترقی کا اندازہ اس ملک کے پاسپورٹ سے ہوتا ہے،جو ملک جتنا اہم ہوگا اس کا پاسپورٹ بھی اتنا ہی اہم ہوگا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں سب سے طاقتور پاسپورٹ اور سب سے کمزور  پاسپورٹ کس ملک کا ہے؟ اگر نہیں تو ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں۔

دنیا میں سب سے طاقتور  پاسپورٹ  جاپان  اور سب سے کمزور  پاسپورٹ  افغانستان  ہے،  جاپان  کے پاسپورٹ کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جاپانی شہری بغیر ویزہ کے 191 ممالک کا سفر کر سکتا ہے۔ اسی طرح افغان شہری صرف 26 ممالک کا سفر بغیر ویزہ کے کر سکتے ہیں۔

ہینلی اینڈ پارٹنرز کی درجہ بندی کے مطابق جو  پاسپورٹ کی توثیق کے لیے استعمال ہوتا ہے، ایران دنیا کے آخری چھ ممالک میں شامل ہے۔ یقیناً آپ کے ذہن میں یہ سوال ہوگا کہ اس درجہ بندی میں  پاکستان کہاں کھڑا ہے اور پاکستانی شہری کن ممالک کا سفر بغیر ویزہ کے کر سکتے ہیں اس لحاظ سے  پاکستان  اس درجہ بندی میں آخری پانچ ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستانی شہریوں کو 32 ممالک کا سفر کرنے کے لیے ویزہ کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح درجہ بندی میں سرفہرست ممالک میں سنگاپور دوسرے جبکہ جرمنی دوسرے اور جنوبی کوریا تیسرے نمبر پر ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کویت ائیر ویز نے 30 فیصد ملازمین کے ساتھ کام بحال کر دیا

اس کے علاوہ  یمن، صومالیہ، شام،  افغانستان  اور عراق دنیا کے کم سے کم درست یا ’ویلڈ‘  پاسپورٹ  کی فہرست میں سرفہرست اور انتہائی درست  پاسپورٹ  کی فہرست میں سب سے نیچے ہیں۔ درجہ بندی کے مطابق بھارتی شہری 58 ممالک میں بغیر ویزہ کے سفر کر سکتے ہیں۔   پاسپورٹ کی توثیق کا معیار وہ شرح ہے جس پر سیاحوں کو دنیا کے مختلف ممالک میں سفر کرنے کی اجازت ہے۔ ایران کے شہری 41 ممالک کو بغیر ویزہ یا آمد پر ویزا کی سہولت کے تحت سفر کرسکتے ہیں۔

بہت سے ایرانیوں نے ایسے ممالک کے بارے میں سنا بھی نہیں ہے جن کا دورہ وہ ویزے کے بغیر یا ہوائی اڈے پر آمد کے وقت لے کر سفر کرسکتے ہیں۔ مشرقی تیمور سے موزمبیق اور موریتانیا جیسے چھوٹے ممالک جو جغرافیائی طور پر ایران سے دور ہیں اور ایرانی سیاحوں یا کاروباری افراد کے لیے سب سے کم سیاحتی یا معاشی کشش رکھتے ہیں۔

وینزویلا جیسا لاطینی امریکی ملک، جو ایک مکمل معاشی بحران کا شکار ہے، ایرانیوں کے لیے یہ سہولت فراہم کرتا ہے۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ