کویت

کویت کے ثقافتی بازار سوق مبارکیہ کے ورثے کو محفوظ کر لیا گیا

کویت اردو نیوز 23 جنوری: کویت کے ثقافتی بازار “سوق مبارکیہ” کے ورثے اور ثقافتی رنگوں کو ایسے محفوظ کرلیا گیا ہے کہ اب وہ اپنے پرانے انداز میں نظر آتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل کونسل برائے کلچر، آرٹس اینڈ لیٹرز (NCCAL) نے سوق مبارکیہ میں کھجور مارکیٹ اور مصالحہ جات مہیا کرنے والی مارکیٹ میں ورثہ کی دکانوں کی بحالی، تزئین و آرائش کا کام اس طرح مکمل کرلیا ہے جیسے وہ ماضی میں لوٹ آئی ہو۔

این سی سی ایل کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ ملکر سوق مبارکیہ ہیریٹیج مارکیٹ کے نئے مرحلے کا معائنہ کرنے کے بعد این سی سی ایل کے سیکریٹری جرنل کامل العبد الجلیل نے 23 اسٹوروں میں بحالی اور تزین و آرائش کے کاموں کی تکمیل کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ اسٹور کھلے ہیں اور کویت میونسپلٹی کے ذریعہ لائسنس شدہ پرانی تجارتی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کے لئے تیار ہیں۔

متعلقہ مضامین

انہوں نے انکشاف کیا کہ تجارتی سرگرمیاں بعض پیشوں، دستکاری اور ورثہ کے سامان سے متعلق ہیں، ان دکانوں کے علاوہ جو مشہور کھانا ، ثقافتی لباس اور کچھ چیزیں فروخت کرتے ہیں جو کویت کے پرانے بازاروں میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی 15 نئے اسٹوروں کی نیلامی کی جائے گی اور یہ اسٹورز این سی سی اے ایل کی طے شدہ خصوصی شرائط کے مطابق سرگرمیاں انجام دیں گے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “باحیثیت این سی سی ایل ہماری ذمہ داری تاریخی عمارتوں اور ورثہ کی تحفظ ہے۔ ہمارے پاس عزم ، جذبہ اور ملک کی تعمیراتی اور ورثہ کی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے بہت سی عمارتوں کو ان کی اصل خصوصیات میں بحال کرنے کا عزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوق مبارکیہ ہیریٹیج مارکیٹ میں پرانی عمارتیں اہم ہیں کیونکہ وہ شیخ مبارک میوزیم کے ساتھ ہی دارالحکومت کے وسط میں واقع ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس جگہ کی تمام خصوصیات کویت کی مستند شناخت اور قوم کی تاریخ میں اس کے اہم پہلو کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ “یہ کونسل کے عہدیداروں خصوصا قدیم نوادرات ، عجائب گھروں اور انجینئرنگ امور کے شعبے کا فرض ہے۔ دوسری طرف نوادرات اور عجائب گھروں کے شعبے کے اسسٹنٹ سکریٹری ڈاکٹر بدر الدویش نے کہا کہ کھجور مارکیٹ ملک کا ایک تاریخی مقام ہے نہ صرف کویت بلکہ دوسرے ممالک کے زائرین کے لئے بھی اس کی تاریخی حیثیت کو ہمیں مدنظر رکھنا۔

حوالہ
الرای
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button