کویت

کویت کے وزیر صحت شیخ باسل الصباح نے خود سے منسوب خبروں کی تردید کر دی

کویت اردو نیوز 23 دسمبر: کویت کے وزیر صحت عزت مآب شیخ حمود باسل الصباح نے ان سے منسوب میڈیا میں شائع کی جانے والی خبر جس میں ملک کی سرحدوں کو کھول دینے کی اجازت دی گئی ہے کی تردید کر دی ہے۔

تحریر جاری ہے‎

تفصیلات کے مطابق وزیر صحت ڈاکٹر باسل الصباح نے گزشتہ روز فضائی اور زمینی بندرگاہوں کی منظوری، بیرون ملک پھنسے ہوئے افراد کے کویت میں داخلے کی منظوری اور اس فیصلے سے 3 پروازوں کو خارج کرنے سے متعلق سوالات کا جواب انکار کی صورت میں دیا اور واضح کیا کہ ایسا کوئی فیصلہ فی الحال متوقع نہیں۔ منگل کا دن بندرگاہوں کی نقل و حرکت میں خلل پیدا ہونے اور کویت کے پھنسے ہوئے شہریوں اور رہائشیوں کی الجھن و پریشانی کے باعث ایک مشکل دن گزرا ہے۔

اس فیصلے کے اثر انداز ہونے سے قبل ہی کویت میں داخل ہونے کے لئے سعودی عرب سے آنے والے زائرین کا سالمی اور نواصیب باڈر پر جم غفیر موجود تھا۔ ایسے مناظر بھی دیکھے گئے جہاں گاڑیاں بارڈر کے کنارے تک پھیلی ہوئی تھیں۔

باخبر ذرائع نے روزنامہ الرای کو بتایا کہ “سرحدوں کو بند کرنے کا فیصلہ وزراء کی کونسل نے جاری کیا تھا اور پھنسے ہوئے شہریوں اور تارکینِ وطن کو کل واپس لانے کا دوسرا فیصلہ بھی کونسل کے ذریعہ ہی جاری کیا گیا تھا۔

فیصلے سے خارج شدہ پروازوں کے بارے میں ذرائع نے واضح کیا کہ “کویت ائیرپورٹ پر پروازوں کی معطلی کے وقت ان 3 پروازوں کو ملک واپس لانے کی اجازت کا فیصلہ پہلے ہی لے لیا گیا تھا اور ان پروازوں میں وہ شہری اور تارکین وطن سوار تھے جو کویت واپس آرہے تھے اور ملک پہنچنے سے پہلے ایک ٹرانزٹ اسٹیشن میں تھے۔

ذرائع نے اشارہ کیا کہ اگر بندش میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے تو بیرون ملک پھنسے افراد کے لئے واپسی کا طریقہ کار بھی موجود ہوگا۔

بیرون ملک پھنسے ہوئے شہریوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ذرائع نے بتایا ہے کہ “پروازوں کو معطل کرنے کے فیصلے میں کوئی رعایت شامل نہیں ہے اور ہر ایک کو 2 جنوری تک کی مخصوص مدت کا انتظار کرنا ہوگا” اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ” اگر کویتی شہریوں کے لئے سفر کرنا بہت ضروری ہے تو” ان ممالک کے صحت کے حکام کی ہدایت پر عمل کریں جن میں وہ موجود ہیں اور اگر ضروری ہو تو کویتی مشنز سے بات چیت کریں۔

حوالہ
الرای
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ