کویت

کویت: 232 افراد پر مشتمل پاکستانی میڈیکل ٹیم کا دوسرا دستہ جلد کویت پہنچنے والا ہے

کویت اردو نیوز 30 نومبر: پاکستانی میڈیکل ٹیم کا دوسرا دستہ جلد کویت پہنچنے والا ہے۔

تحریر جاری ہے‎

روزنامہ الجریدہ کی رپورٹ کے مطابق وزارت صحت کی قومی اور مقامی ٹیموں کی مدد اور کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے 232 ڈاکٹروں ، ٹیکنیشنز اور نرسوں پر مشتمل پاکستانی طبی عملے کا دوسرا دستہ آنے والے دنوں میں کویت پہنچے گا۔

اکتوبر میں کویت آنے والے پاکستانی میڈیکل وفد کے پہلے گروپ میں 208 ڈاکٹرز ، ٹیکنیشن اور نرسیں شامل تھیں جبکہ دوسرے دستے کی آمد کے ساتھ ہی کویت میں پاکستانی عملے کی کل تعداد 440 ہوجائے گی جس میں 97 ڈاکٹر ، 280 نرسیں اور 63 تکنیکی ماہرین شامل ہونگے۔

باخبر صحت کے ذرائع نے بتایا کہ دوسرے گروپ میں اینس تھیسیولوجی ، انتہائی نگہداشت ، داخلی ادویات اور سینے کی بیماریوں کے ماہرین کے ساتھ انتہائی نگہداشت اور پیٹ کی بیماریوں کے دوران دیکھ بھال میں مہارت رکھنے والی نرسیں بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دوسرا گروپ جابر اور فروانیہ اسپتالوں کے علاوہ کویت فیلڈ اسپتال میں بھی (exhibition ground) میں بھی کام کرے گا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت نے کچھ ہفتہ قبل پاکستانی میڈیکل ٹیموں کے دوسرے دستے کے لئے معاہدے بھیجے تھے جن میں کویت میں قیام کے دوران انھیں حاصل ہونے والی تنخواہوں کے علاوہ مالی فوائد بھی شامل تھے۔ پاکستان سے میڈیکل ٹیمیں لانے کا فیصلہ دونوں ممالک کے مابین مشترکہ طبی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے اور تجربات کے تبادلے کے فریم ورک کے اندر ہے جس کے تحت جولائی کے اوائل میں وزارت صحت نے دستخط کیے تھے۔ ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کے مابین تعاون کو مستحکم کرنا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستانی طبی عملے کو “Lokum” سسٹم کے ذریعے بھرتی کیا جائے گا اور ان کی خدمات کو 3 ماہ کی مدت تک استعمال کیا جائے گا تاہم ان کی تقرری میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جائے گی۔ اس طرح اسپانسرشپ کی منتقلی کے بغیر طبی عملہ 6 ماہ تک وزارت کی خدمت کرے گا نیز وزارت صحت اپنے معاہدے کے اختتام پر ٹیم کے متعدد ممبروں کی تقرری کے امکان کا مطالعہ کر رہی ہے تاکہ کوویڈ 19 وبائی امراض سے نمٹنے میں عملہ اپنی خدمات کا استعمال جاری رکھیں۔

حوالہ
عرب ٹائمز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ