کویت

کویت: ساحل سمندر پر شیشہ پینے اور کچرا پھینکنے پر بھاری جرمانہ عائد

کویت اردو نیوز 17 نومبر: پبلک اتھارٹی برائے ماحولیات کی مہمات کا آغاز کر کے شہریوں کو سخت تنبیہ جاری کردی گئی۔

ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جہاں حالیہ دنوں میں شہریوں اور رہائشیوں کی بڑی تعداد نے ساحل سمندر کا رخ کیا ہے اور موسم سے لطف اندوز ہورہے ہیں وہیں پبلک اتھارٹی برائے ماحولیات سے وابستہ انسپکشن ٹیموں نے ساحل پر اپنی مہمات کا آغاز بھی کردیا ہے۔ فضلہ پھینکنے یا ماحولیاتی خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے لئے ان مہمات کا آغاز کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اتھارٹی کو روزانہ کچرے کا ڈھیر لگانے اور ساحل پر اسے مسلسل پھینکنے کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ اتھارٹی نے ایسے معاملات کے خلاف اقدامات بھی اٹھائے تھے۔گزشتہ دنوں ابو الحسینیہ ساحل پر جانے والوں کو عدالتی پولیس کے ذریعہ تعلیم دی گئی تھی اور ماحولیاتی پولیس نے صفائی کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کیا تھا۔

ماحولیاتی قانون کے مطابق ساحلوں پر خلاف ورزی کرنے والے دو ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی زد میں آسکتے ہیں جن میں سے پہلا کچرا پھینکنا ہے جسکا جرمانہ 50 دینار سے شروع ہوتا ہے اور 500 دینار تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئلہ جلانے، بار بی کیو کرنے یا حقہ / شیشہ کا استعمال ہے جس کی خلاف ورزی کا جرمانہ 50 دینار ہے اور یہ 200 دینار تک پہنچ سکتا ہے۔

فینس العجمی نے روزنامہ القبس کو فضلہ جیسے کھانے کی باقیات ، پلاسٹک اور دیگر مواد کے بنیادی طور پر نقصان اور کس طرح یہ فضلہ زمین اور سمندری ماحول کو آلودہ کرتاہے کہ بارے میں بتایا اور واضح کیا کہ کچرا پھینکنے والے افراد کو اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

العجمی نے اشارہ کیا کہ ساحل سمندر پر جانے والے سیر و تفریح کے بعد جو فضلہ پھینک دیتے ہیں وہ سمندری حیاتیات کے لئے موت ثابت ہوتا ہے۔ بہت سارے سمندری علاقوں میں حیاتیات اور سمندری پودے زندگی کی طرف لوٹ آئے ہیں اور کئی سالوں بعد انکا پھر ظہور ہوا ہے کیونکہ یہ پودے اور سمندری حیاتیات آلودگی کے باعث ختم ہوگئے تھے۔

العجمی نے تجویز پیش کی کہ اس موسم میں کیمپوں کو روکنا زمین کی بحالی کے لئے ایک اچھا موقع ہوگا اور ماحولیاتی ایجنسی ، کویت بلدیہ اور زراعت اتھارٹی کے متعلقہ سرکاری اداروں کو چاہئے کہ وہ اس زمین کو کاشت کرنے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کے لئے شانہ بشانہ کام کریں۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ