کویت

کویت: فلو کی ویکسین تارکین وطن کے لیے دستیاب نہیں

کویت اردو نیوز 01 نومبر: تارکینِ وطن کے لئے فلو کی ویکسینیشن ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ نے فلو ویکسین کی قلت کی اطلاع ملنے کے بعد 55000 فلو ویکسین کی خوراکیں موصول کیں۔ صحت کے علاقوں میں 11،000 انفلوئنزا ویکسینیں بچاؤ کے مراکز میں تقسیم کی گئیں ہیں جبکہ دوسری کھیپ اگلے سال کے شروع میں وصول کی جائے گی جسکے بعد کویتی شہریوں کی ویکسینیشن کے لئے بکنگ کا آغاز ہوگا۔

ذرائع کے مطابق فلو ویکسین کا یہ پہلا مرحلہ ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں طبی عملہ ، نرسنگ باڈیز ، رسک عوامل ، بزرگ افراد اور دائمی غیر مواصلاتی بیماریوں میں مبتلا افراد کو ویکسین دیا جائے گا۔

وزارت انفلوئنزا اور وائرس سے ہونے والے انفیکشن سے بچنے کے لئے ہر ممکن حد تک قطرے پلانے پر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ موسم سرما کے قطرے لینے والے افراد میں “کورونا” کے انفیکشن سے ہونے والی علامات کو کم کرنا بھی شامل ہے۔

تارکین وطن کے لئے ویکسینیشن کا عمل وزارت تیسرے مرحلے میں کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جو دوسری فلو ویکسین کی کھیپ کے بعد شروع کیا جائے گا۔تارکین وطن کے ویکسینیشنز پیشگی اپوائنٹمنٹ کے بعد کئے جائیں گے۔

نیموکول ویکسین فی الحال 6 ماہ سے 16 سال تک کے بچوں کے لئے دی جارہی ہے جنہوں نے ویکسینیشن پروگرام کے مطابق پہلے کبھی ٹیکے نہیں لگوائے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ویکسین 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو بھی دی جاتی ہے اور سب سے زیادہ صحت کے خطرات سے دوچار بچوں کو دی جاتی ہے جنہوں نے کسی قسم کے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ بنیادی طور پر صحت کے شعبے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کے لئے موسمی انفلوئنزا کے خلاف ٹیکہ لگانا ضروری ہے کیونکہ اس کی علامات کورونا وائرس (کوویڈ – 19) سے ہونے والے انفیکشن سے بہت ملتی جلتی ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ نجی اسپتالوں اور طبی مراکز کی اکثریت میں ابھی تک موسمی انفلوئنزا ویکسین اور نمونیا ویکسین دستیاب نہیں ہیں۔ یہ اسپتال ابھی بھی ویکسین کی خوراک کے آنے کے منتظر ہیں تاکہ ویکسین کویتی شہریوں اور تارکینِ وطن کے لئے دستیاب ہوسکیں۔ ویکسین کے آنے کی کوئی خاص تاریخ نہیں ہے کیونکہ جو کمپنیاں یہ ویکسین تیار کرتی ہیں انہیں دنیا کے تمام ممالک کی جانب سے زیادہ مانگ کی وجہ سے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: 34 ممالک کی پروازیں بند کرنے کی وجہ سے کویت کو کتنا نقصان ہو رہا ہے؟

عالمی ادارہ صحت نے سانس کے شدید انفیکشن کے امکانات کو کم کرنے کے لئے انفلوئنزا ویکسین لینے کی ہدایات کی ہے۔ انفلوئنزا اور سانس کے کچھ دوسرے وائرس سے ہونے والا انفیکشن انسانی جسم میں کمزوری میں معاون ہوتا ہے اور اس کی قوت مدافعت کو کم کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ انفیکشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ انفلوئنزا اور “کوویڈ ۔19” سنگین معاملات میں موت کا باعث بنتے ہیں۔

حوالہ
عرب ٹائمز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ