کویت

کویت: جزوی کرفیو لگ سکتا ہے ممنوعہ ممالک کی تعداد بڑھائی جا سکتی ہے

کویت اردو نیوز 10 اکتوبر: ملک میں صحت کی بگڑتی صورتحال، عوام کسی بھی فیصلے کے لئے تیار رہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں ملک میں کورونا وائرس سے 34 اموات نے ذمہ دار حکام کے سامنے کئی آپشنز رکھ دیئے جن میں سے کسی ایک آیشن کا نفاذ بھی اب عوام کے لئے کڑوا گھونٹ ثابت ہوسکتا ہے۔

اعلی سرکاری ذرائع نے غفلت اور صحت کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ملک میں صحت کی صورتحال کو خطرناک قرار دیا ہے۔ ذرائع نے روزنامہ القبس کو ایک میٹنگ میں بتایا ہے کہ وزیر صحت ڈاکٹر باسل الصباح آج (ہفتے کے روز) وزارت کے رہنماؤں کے ساتھ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے اور وزرا کی کونسل کو نتائج پیش کریں۔ مناسب فیصلے کرنے کے لئے غیر معمولی اجلاس منعقد کیا جائے گا جو کہ کل یا (پیر) یا اگلے جمعرات کو ہوگا۔

ذرائع کے مطابق جزوی کرفیو کا آپشن ممکن ہے اور پیش کیا جائے گا لیکن اب یہ پہلا آپشن نہیں ہے اور اگر اس کے نتائج کا فائدہ سامنے نہیں آتا ہے تو اس سے پہلے دوسرے اقدامات کئے جائیں گے جبکہ کچھ ممالک پابندی کے خاتمے کے بعد پھر سے پابندی عائد کرچکے ہیں۔

ذرائع نے متنبہ کیا ہے کہ اگلے مہینے انفیکشن کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور یہ زیادہ خطرناک ثابت ہوگا اور “کورونا” کی دوسری لہر آئے گی جسکی عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کردی ہے لہذا بہت دیر ہونے سے پہلے ہی اس کے خلاف اقدامات اٹھانے ہونگے۔

ذرائع نے دیگر فریقوں سے ایک ٹیم کی حیثیت سے وزارت صحت اور لیبر کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ “وزارت صحت” طبی کاموں میں مصروف ہے اور ایسے دیگر معاملات ہیں جن سے متعلقہ محکموں اور وزارتوں کو تعاون کرنا ہے جیسے اجتماعات کی نگرانی و روک تھام جبکہ کچھ وزارتیں علیحدگی کی شرائط پر عمل پیرا نہیں ہیں۔

ذرائع نے شہریوں کی غلطی، غفلت اور صحت کی ضروریات کی خلاف ورزی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ شہری اور تارکینِ وطن بغیر کسی ضرورت کے بیرون ملک سفر کررہے ہیں علاوہ ازیں جب ضروری ہو تو ہی سفر کیا جائے۔ ماسک نہ پہننے اور معاشرتی دوری قائم نہ رکھنے سے ملک میں کیسوں میں اضافہ ہوا ہے جسکا براہ راست اثر وزارت صحت پر پڑ رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں وزارت کوئی بھی ممکنہ فیصلہ لے سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: 150 تارکین وطن کی نوکریاں ختم کرنے کی تیاری

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے افراد کے لئے دو ہفتوں کے لئے قرنطین کا عرصہ تبدیل نہیں ہوگا اور اس کا انحصار وبائی امراض کی مقامی اور عالمی پیشرفت پر ہے۔

ذرائع نے زور دے کر کہا کہ قرنطین میں کوئی کوتاہی نہیں کی جارہی ہے اور ایک ایسا الیکٹرانک نظام موجود ہے جو خلاف ورزی کرنے والوں پر نظر رکھتا ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع سے یہ پوچھنے پر کہ 34 ملکوں پر داخلے پر پابندی کب تک عائد رہے گی اس بات کے جواب میں ذرائع نے تصدیق کی کہ وہ اجلاس کے شیڈول پر ہے لیکن انہوں نے ان کی تعداد بڑھانے سے انکار نہیں کیا۔ ہوائی اڈے کے مکمل کھلنے کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ موجودہ صورتحال کی روشنی میں کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزارت صحت ابھی بھی ماسک نہ پہنن ےوالے افراد کے لئے عدالتی کاروائی کے بارے میں “فتویٰ اور قانون سازی” کے ردعمل کی منتظر ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خاص طور پر آنے والے دور میں یہ ایک اہم قانون ہوگا۔

حوالہ
روزنامہ القبس
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

Open

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ