کویت

لاکھوں دیناروں کی چوری کرنے والا چور پکڑا گیا

کویت اردو نیوز 08 اکتوبر: پوش علاقوں سے ملین دیناروں کی قیمتی اشیاء چوری کرنے والا چور پکڑا گیا۔


تفصیلات کے مطابق ایک نامعلوم چور جس کی اتنی جلدی پکڑے جانے کی توقع نہیں تھی پولیس کی تحویل میں ہے۔ پولیس کی گرفت میں آنے والا چور الداعیة، قرطبه، قدسیه اور الفیحاء کے متعدد گھروں میں توڑ پھوڑ کر کے انتہائی مہنگی گھڑیاں ، برانڈڈ ہینڈ بیگ اور زیورات سمیت قیمتی سامان لے کر فرار ہوگیا تھا جن کی قیمت 25 لاکھ دینار بتائی گئی ہے۔

ملزم نے اپنی گرفتاری سے محض ایک دن پہلے لوٹی گئی اشیاء کو کسی نامعلوم تاجر کو صرف 180،000 دینار میں فروخت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تفتیش کے دوران محکمہ فوجداری تحقیقاتی (سی آئی ڈی) کے اہلکاروں کو چور نے بتایا کہ وہ ایک دکان پر ایک مہنگی گھڑی فروخت کرنے گیا تھا اور خریدار نے اس کی قیمت 30،000 دینار رکھی کیونکہ آخری لمحے میں گرفتاری کے خوف سے اس نے گھڑی فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوران تفتیش اس نے مزید کہا کہ اس نے چوری شدہ کچھ ہینڈ بیگ اور قیمتی سامان تحائف کے طور پر اپنی متعدد گرل فرینڈز کو دے دئیے۔ اس نے کہا کہ اس نے اپنی گرل فرینڈ کی نوکرانی کو بھی ایک گھڑی دی اور اسے بتایا کہ اگر وہ 50 سال تک بھی کویت میں کام کرتی رہی تو وہ اس طرح کی گھڑی نہیں خرید سکے گی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ لوٹ مار کا کچھ حصہ اس نے الداعیه کے نواحی علاقے میں واقع ایک مکان میں چھپا رکھا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ گھر میں سے ایک کتے کو بھی چوری کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا کیونکہ وہ بہت پیارا لگ رہا تھا۔

مزید پڑھیں: دبئی سے کویت کا سفر کرنا ایک خواب بن گیا

ملزم نے بتایا کہ وہ اپنی نقل و حرکت میں بہت محتاط تھا اور چوری کرنے کے دوران اس نے سی آئی ڈی اہلکاروں کو ٹریک سے دور رکھنے کے لئے چوری شدہ کاریں ، آئی ڈی اور فون استعمال کیے تھے لیکن پکڑے جانے پر وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ اس سے قبل وزارت داخلہ کے شعبہ تعلقات عامہ اور سیکیورٹی میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ پولیس گینگ ممبروں کی تلاش کر رہی ہے جو مبینہ طور پر مختلف علاقوں میں مکانات توڑ کر قیمتی سامان چوری کرچکے ہیں۔


محکمہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وزارت داخلہ نے ایسے گھروں کے آس پاس سیکیورٹی سخت کردی ہے جن کے رہائشی طویل عرصے سے گھروں سے غیر حاضر ہیں۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ