کویت

کویت: مسافروں کو کویت میں ہی قرنطین کرنے کی تجویز پر غور

کویت اردو نیوز 16 ستمبر: 34 ممنوعہ ممالک کے مسافروں کو کویت میں ہی قرنطین کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے کے امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، محکمہ انجینئرنگ کے ڈائریکٹر اور کویت ایئرپورٹ پر کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کرنے والی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین انجینئر صالح الفداغی نے کہا ہے کہ صحت حکام کی ہدایت کے مطابق کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والی تمام ایئرلائنز کو پہلے جاری کردہ سرکلر 34 کالعدم ممالک کی کمرشل پروازوں پر پابندی عائد کی گئی تھی اور تاحال یہ پابندی ابھی تک جاری ہے۔

ان ممالک میں بھارت ، ایران ، چین ، برازیل ، کولمبیا ، آرمینیا ، بنگلہ دیش ، فلپائن ، شام ، اسپین ، بوسنیا ہرزیگوینا ، سری لنکا ، نیپال ، عراق ، میکسیکو ، انڈونیشیا ، چلی ، پاکستان ، مصر ، لبنان ، ہانگ کانگ ، اٹلی ، شمالی مقدونیہ ، مالڈووا ، پاناما ، پیرو ، سربیا ، مونٹی نیگرو ، فرانس ، ڈومینیکن ، کوسوو، سربیا، افغانستان اور کوسوو شامل ہیں۔ ان 34 ممالک کے افراد اس فہرست میں موجود ممالک کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک میں 14 دن قیام کے بعد کویت آنے سے قبل اس ملک کا پی سی آر سرٹیفکیٹ لے کر کویت میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ وزارت صحت کو ایک تجویز پیش کی گئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کویت میں داخل ہونے والے 34 ممنوعہ ممالک کے مسافروں کو غیر ممنوعہ ممالک میں قرنطین کرنے کی بجائے کویت کے اندر ہی قرنطین کیا جائے جبکہ وزارت صحت اس تجویز کا مطالعہ کر رہی ہے کہ آیا اس تجویز کی منظوری دی جائے یا نہیں۔

روزنامہ الأنباء کو ایک خصوصی بیان دیتے ہوئے ایم الفداغی نے مزید کہا کہ ان ممالک سے کسی بھی مسافر کے استقبال کو روکنے کا مقصد وزارت صحت کی جانب سے بہت سارے مطالعے ہیں جن میں عالمی ادارہ صحت کی سفارشات اور اعدادوشمار بھی شامل ہیں۔ ان ممالک میں یہ وائرس زیادہ تعداد میں پھیل گیا۔ بیرون ممالک سے کویت آنے والے مسافروں کو وصول کرنے کے لیے صرف ایک شخص کو ہوائی اڈے کے اندر داخل ہونے اور اپنے اہل و عیال و عزیز و اقارب کا استقبال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ خبر بھی ضرور پڑھیں: مکمل یا جزوی کرفیو لگ سکتا ہے: وزارت صحت

انہوں نے نشاندہی کی کہ سول ایوی ایشن کی جنرل ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ساتھ مختلف سرکاری اور نجی اداروں نے کورونا وبائی امراض کے بعد سے بغیر رکے چوبیس گھنٹے کام کیا ہے لیکن پہلے دنوں میں کام کے اوقات میں اضافہ ہوا ہے۔ ترسیل اور انخلاء کے کاموں کا سلسلہ جاری ہے اور ہم وزراء کی کونسل کے منظور شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں یعنی تجارتی آپریشن کا مرحلہ کل نقل و حرکت کا 30 فیصد ہے جبکہ ویکسین دریافت ہونے بعد ہم معمول کی نقل و حرکت پر واپس آجائیں گے۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ