کویت

کویت: 4,26,871 تارکین وطن اپنے ممالک میں پھنس چکے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد ملک میں داخل ہی نہیں ہو سکتی

کویت اردو نیوز 13 ستمبر: جائز اقاموں کے ساتھ 426،871 تارکین وطن کویت سے باہر پھنسے چکے ہیں جبکہ اقامہ میعاد ختم ہو جانے والے تارکین وطن کے لئے کویت میں داخلہ نہیں ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق رہائشی امور برائے وزارت داخلہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری میجر جنرل انور البرجاس نے بیان کیا کہ ریزیڈنسی قانون میں ایک ترمیم فی الحال تیار کی گئی ہے اور اسے منظوری کے لئے متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ 23 اگست سے کویت سے باہر پھنسے ہوئے جائز اقاموں کے ساتھ غیر ملکیوں کی تعداد 426،871 ہوگئی ہے جبکہ اقامہ کی میعاد ختم ہو جانے والے غیر ملکی ملک میں داخل ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔

سیاحتی ویزے کے بارے میں میجر جنرل انور البرجاس نے بتایا کہ آئندہ اطلاع تک تمام قومیتوں کے لئے ہر قسم کے ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے اور وہ وزارت صحت کی ہدایت کے منتظر ہیں۔

ایسے تارکین وطن جن کے کام کا معاہدہ یا اقامہ یکم جنوری 2020 سے پہلے ختم ہوچکا ہے انہیں بغیر کسی جرمانے کے ملک چھوڑنا ہوگا اور انہیں واپس جانے کی اجازت ہوگی جبکہ وزارتی فیصلے میں اقامہ خلاف ورزی کر کے مخصوص مدت کے اندر ملک سے نہ جانے والوں پر وزارتی فیصلے کا آرٹیکل 7 لاگو ہوگا جس میں کہا گیا ہے کہ “جو بھی اقامہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور آرٹیکل 1 میں مذکورہ مقررہ مدت کے اندر ملک سے نہیں جاتا ہے تو اس پر قانونی طور پر مقرر کردہ جرمانے وصول کیے جائیں گے، اسے رہائش کا اختیار نہیں دیا جائے گا، ملک سے جلاوطن کیا جائے گا اور اسے دوبارہ ملک میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ یہ بات وزارت داخلہ برائے رہائشی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری میجر جنرل انور البرجاس نے روزنامہ الأنباء کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

سب سے پہلی بات کہ ہر کوئی رہائشی قانون میں ترمیم کا منتظر ہے جس کے آبادیاتی نظام کی ترمیم سے اہم اثرات مرتب ہوں گے۔ کورونا بحران نے اس خطے میں موجود نقائص کے بارے میں کھل کر انکشاف کر دیا ہے لہذا جب یہ ترامیم آئیں گی تو ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔”

“رہائشی امور کا شعبہ وزارت کے مجاز حکام کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے تاکہ پیش آنے والے مسائل یا معاملات کے لئے ضروری قانون سازی اور مناسب قوانین کے اجرا کی درخواست کی جائے جو موجودہ قوانین کے مطابق حل نہیں ہوئے ہیں یا ان کو حل نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال اقامہ قانون میں یہ ترامیم تیار کی جارہی ہیں اور منظوری کے لئے متعلقہ حکام کے پاس ہیں۔

انٹری ویزہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نٹری ویزے ایکسپیٹ رہائشی قانون کے مطابق جاری کیے جاتے ہیں اور یہ ایک خاص مدت کے لئے موزوں ہوتا ہے جو کسی غیر ملکی کو مخصوص مدت کے اندر داخل ہونے کا اہل بناتا ہے۔ ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد ملک میں داخل نہیں ہوا جا سکتا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: غیر ممنوعہ ممالک میں 14 دن گزار کر ملک میں داخلے کی اجازت ہے

“اگلے نوٹس تک تمام قومیتوں کے لئے ہر قسم کے انٹری ویزوں کا اجرا روک دیا گیا ہے۔ وزارت صحت سے ہدایات موصول ہونے کے فورا بعد ہی تمام اقسام کے ویزا کے لئے معمول کے مطابق ویزے جاری کئے جائیں گے۔”

ویزا فیس میں اضافہ:

“داخلے اور وزٹ ویزوں کے حصول کے لئے فیسوں میں اضافے کے بارے میں جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا تھا غیر ملکیوں کے رہائشی قانون میں ترمیم کی جارہی ہے اور منظوری کے بعد ان ترامیم کا اعلان کیا جائے گا۔”

خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مہم:

“ایک سیکیورٹی ذرائع نے تجویز پیش کی کہ فضائی حدود کے کھلنے اور کویت سے پروازوں کی معمول کی منتقلی کے بعد رہائشی قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لئے ایک بڑی مہم چلائی جائے گی جبکہ اس بات کی نشاندہی کی کہ موجودہ حالات ایسی مہم پر عمل درآمد کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ “

وزٹ ویزہ کی تجدید نہیں ہو گی:

ذرائع نے اس بات کو مسترد کردیا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے وزٹ پر آنے والوں اور اقامہ خلاف ورزی کرنے والوں کو نومبر کے آخر تک کسی نئی توسیع کی منظوری دینے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔ متعدد ممالک کی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے زائرین کو دیئے گئے چھ ماہ غیر معمولی حد درجہ تھے۔ ذرائع نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جرمانے کی ادائیگی سے بچنے کے لئے زائرین اضافی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔

حوالہ
عرب ٹائمز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ