کویت

کویت: غیر تعلیم یافتہ تارکین وطن کی تعداد آسمان کو چھونے لگی

کویت اردو نیوز 30 اگست: تارکین وطن کی جگہ کویتی شہریوں کو نوکری دینے کا تخمینہ لگایا جائے گا جبکہ ملک میں غیر تعلیم یافتہ تارکین وطن کی تعداد 1500000 تک پہنچ چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے ایک سرکاری اعدادوشمار نے انکشاف کیا ہے کہ ہائی اسکول ڈپلوما رکھنے اور اس سے کم تعلیم یافتہ تارکین وطن کارکنوں کی تعداد گھریلو ملازمین کی گنتی کے علاوہ قریب 15,00,000 تک پہنچ چکی ہے جبکہ پچھلے 5 سالوں میں 200،000 مزدوروں کا اضافہ ہوا ہے۔

ابتدائی سرٹیفکیٹ رکھنے والے 114،000 کارکنوں کے مقابلے میں اوسط سرٹیفکیٹ رکھنے والے مزدوروں کی تعداد تقریبا 900،000 ہے۔ 2019 کے آخر میں یونیورسٹی کی ڈگری کے حامل تقریبا 212،000 کارکنان تھے جبکہ پوسٹ گریجویٹ ڈگری والے 12،000 کارکنان تھے۔

پارلیمانی ہیومن ریسورس کمیٹی ایک قانون کے ذریعہ قومیتوں کے لئے کوٹہ متعین کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ آبادیاتی عدم توازن کو دور کیا جاسکے اور لیبر مارکیٹ میں غیر ملکیوں کی تعداد کو محدود کیا جاسکے۔

تارکین وطن کے گرد گھیرا تنگ ہونا لگا۔

دوسری طرف حکومت اس فیصد کا تخمینہ ایک تکنیکی کمیٹی کے ذریعے اس انداز سے لگائے گی کہ سرکاری و نجی محکموں میں تارکین وطن کی جگہ کویتی شہریوں سے خدمات لینے کے دوران کوئی محکمہ متاثر نہ ہو۔

View this post on Instagram

أحمد عبدالستار – تلتئم لجنة الموارد البشرية الأحد، لمواصلة مناقشة الاقتراحات بقوانين بشأن معالجة الخلل في التركيبة السكانية، بحضور وزيرة الشؤون الاجتماعية وزيرة الدولة للشؤون الاقتصادية مريم العقيل. وكشفت إحصائية حكومية، أحيلت إلى مجلس الأمة، أن أعداد العمالة الوافدة من حملة شهادة الثانوية وما دونها بلغت نحو مليون ونصف المليون عامل «من دون احتساب العمالة المنزلية»، مشيرة إلى زيادة بواقع 200 ألف عامل في تدفق العمالة إلى سوق العمل خلال السنوات الخمس الأخيرة. وأظهرت الإحصائية – التي حصلت القبس على نسخة منها- أن عدد العمالة من حملة شهادة المتوسط يبلغ قرابة 900 ألف عامل، مقابل 114 ألف عامل بشهادة ابتدائية. وذكرت أن حملة الشهادة الجامعية عند انتهاء عام 2019 بلغوا نحو 212 ألف عامل، مقابل 12 ألف عامل بشهادة فوق جامعية. وتسعى لجنة الموارد البشرية البرلمانية إلى تحديد «كوتا» للجنسيات من خلال قانون بهدف معالجة اختلالات التركيبة السكانية والحد من تدفق الوافدين إلى سوق العمل، لكن الحكومة ومعها المكتب الفني للجنة يؤيدان ترك تحديد النسب للجهات المختصة، التي ستقدر هذه النسب على نحو لا يضر بسير المرافق العامة والاحتياجات الوظيفية في كل من القطاعين العام والخاص، ومدى قدرة تخفيض نسب الوافدين وإحلال العنصر الوطني محلهم. #القبس_مجلس_الأمة

A post shared by القبس (@alqabas) on

حوالہ: روزنامہ القبس

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

Open

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ