کویت

کویت: غیر قانونی تارکین وطن کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا

کویت اردو نیوز 27 اگست: رہائشی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف غیر معمولی مہم کا منصوبہ مکمل کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کے مجاز حکام نے رہائشیوں کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لئے غیر معمولی مہم شروع کرنے کا اپنا منصوبہ مکمل کرلیا ہے۔ یہ مہم خاص ان افراد کے لئے ہے جنہوں نے معافی کی مدت کا فائدہ نہیں اٹھایا جو کہ وزارت داخلہ نے اسی سال اپریل میں دی تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ فی الحال کویت میں رہائشی قوانين کی خلاف ورزی کرنے والوں کی اصل تعداد کا تخمینہ لگ بھگ 75،000 ہے جو رہائش کی حیثیت میں ترمیم کرنے کے قابل نہیں ہیں کیونکہ وہ عرصہ دراز رہائشی اقامے کی خلاف ورزی کررہے ہیں اس کے برعکس قریب 15،000 دیگر خلاف ورزی کرنے والے افراد ہیں جو اپنے رہائشی اقامے کی ترمیم کرنے کے اہل ہیں اور جرمانے کی ادائیگی کے بعد حیثیت تبدیل کرسکتے ہیں۔

ذرائع نے واضح کیا کہ اس مہم کا آغاز ائیرپورٹ کی بحالی کے بعد شروع کیا جائے گا تاکہ گرفتار افراد کو پولیس اسٹیشنوں، حراستی مراکز اور ملک بدری کے مراکز میں بھیڑ سے بچنے کے لئے انہیں جلد ہی ملک بدر کیا جاسکے۔

یہ خبر بھی ضرور پڑھیں: حکومت کویت نے تارکین وطن کے لئے باضابطہ اعلان کر دیا

انہوں نے اشارہ کیا کہ طے شدہ مہم میں سیکیورٹی کے متعدد شعبے شامل ہوں گے اور ان نئے منصوبوں اور طریقوں پر انحصار کریں گے جو پچھلی مہموں سے مکمل طور پر مختلف ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ جن جگہوں پر بڑی تعداد میں خلاف ورزی کرنے والے چھپے ہوئے ہیں ان کی نگرانی سیکیورٹی حکام کر رہے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جائیں گے۔

کویت اردو نیوز کے یوٹیوب چینل کو نئی خبروں کے لئے سبسکرائب کریں

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اپریل میں دی گئی عام معافی کا مثبت نتیجہ نہیں نکلا اور نہ ہی اس کا مقصد حاصل ہوسکا ہے کیونکہ چھوٹ کا فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد صرف 26،000 تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے اچھے سلوک کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود بعض خلاف ورزی کرنے والوں نے آخری دم تک ملک میں غیر قانونی طور رہنے کو ترجیح دی۔

حوالہ
عرب ٹائمز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ