کویت

کویت: جعلی ڈگریاں رکھنے والے بھارتی انجینئرز پکڑے گئے

کویت اردو نیوز 14 اگست: بھارتی انجینئرز کی ڈگریوں کی منظوری معطل کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کویت سوسائٹی آف انجینئرز (کے ایس ای) اور پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت (پی اے ایم) نے بھارتی انجینئروں کے سرٹیفکیٹ کی منظوری کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شک و شبہات کی بنیاد پر سوسائٹی کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات منظر عام پر آئی کہ کچھ کاغذات اور لین دین جعلی تھے اور غیر قانونی طریقوں سے حاصل کئے گئے تھے جبکہ کئی بھارتی انجینئرز نے غیر قانونی طریقوں سے “انجینئر ” ٹائٹل کے تحت ورک پرمٹ حاصل کئے ہوئے تھے۔

ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا کہ کویت سوسائٹی آف انجینئرز نے یہ فیصلہ اسوقت لیا جب یہ بات سامنے آئی کہ کچھ بھارتی “انجینئر ” کے ٹائٹل کے ساتھ کام کررہے ہیں لیکن ان کی تعلیمی قابلیت اس ٹائٹل کے حصول کے ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے کی ابتدائی تفتیش جب وزارت داخلہ کو بھیجی گئی تو انکشاف ہوا کہ سرکاری ایجنسیوں کی جعلی مہریں فحاحیل میں مقیم ایشین باشندوں نے  بنائیں تھیں۔

کویت اردو نیوز کے یواتیوب چینل کو سبسکرائب ضرور کریں

روزنامہ الأنباء کی خبر کے مطابق ذرائع نے مزید کہا کہ ایشیائی شہری عام طور سرکاری ایجنسیوں کی مہروں کو فروخت کردیتے ہیں جہاں یہ مہریں ورک پرمٹ کی تجدید وغیرہ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق انجینئرنگ سوسائٹی نے چند بھارتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سوسائٹی نے انکی ڈگریاں منظوری کے لئے اہل حکام کو بھیجیں جو تحقیق کے بعد جعلی ثابت ہوگئیں۔ یونیورسٹیوں سے جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے بھارتیوں میں ذیادہ تر آئل سیکٹر کے ملازمین ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں دوستی ہو گئی

اس صورتحال کے پیش نظر کویت انجینئرنگ سوسائٹی نے بھارتیوں کے سرٹیفیکیٹ منظور کرنے سے انکار کردیا کیونکہ انکی ڈگریاں شرائط و ضوابط کے مطابق نہیں تھیں جبکہ سات ہندوستانیوں کو یونیورسٹی کی ڈگریوں ، سرکاری دستاویزات اور ریکارڈوں پر جعل سازی کرنے پر پبلک پراسیکیوشن کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ ان 3000 ہندوستانیوں کو ایسی دوسری ملازمتوں میں منتقل کیا گیا ہے جو ان کی تعلیمی قابلیت جیسے ٹیکنیشن، مزدور اور ڈرائیور کے مطابق ہیں۔

حوالہ
عرب ٹائمز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

Open

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ