کویت

کویت: سال کے آخر تک 100,000 تارکین وطن کو ملک بدر کئے جانے کا اندیشہ

کویت سٹی 09 اگست: جعلی ویزا کمپنیاں بند، ایک لاکھ غیر ملکیوں کے جلا وطن ہونے کا اندیشہ۔

تفصیلات کے مطابق لیبر مارکٹ سے غیر ملکی ملازمین کو کم کرنے اور آبادیاتی نظام میں توازن پیدا کرنے کے لئے حکومتی فیصلے کے ڈھانچے کے تحت سیکیورٹی حکام نے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں اور ان ویزا تاجروں پر اپنے شکنجے مضبوط کردیئے ہیں جو رجسٹرڈ کمپنیوں کے ساتھ منسلک تو ہیں لیکن ان کمپنیوں کے نہ تو دفاتر ہیں اور نہ ہی کوئی کاروباری سرگرمیاں۔

کل 450 جعلی کمپنیوں کو ویزا فروخت کرنے کے الزامات کے تحت انکے خلاف قانونی کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے جبکہ 2020 کے آخر تک 100،000 کے قریب تارکین وطن کو کویت چھوڑ کر جانا پڑے گا اور واپسی کی بھی کوئی امید نہیں ہوگی۔ ایسی تمام جعلی ویزا کمپنیوں کی فائلیں بند کردی جائیں گی۔

450 کمپنیوں اور دفاتر کی تفتیش کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ 300 کمپنیوں کی پہلے بھی تحقیقات کی جاچکی ہیں جہاں یہ پتہ چلا ہے کہ ان کمپنیوں میں کوئی کاروباری سرگرمیاں نہیں تھیں لیکن ابھی تک 100،000 کارکن رجسٹرڈ ہیں۔ یہ ویزے کمپنیوں کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے اور ویزے غیر ملکیوں کو فروخت کردیئے گئے تھے تاہم اب سیکیورٹی حکام کی جانب سے سخت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں کیونکہ ان کمپنیوں نے تارکین وطن کو ویزے جاری کئے تھے جبکہ ان میں سے کسی بھی کمپنی میں کام نہیں کررہے تھے لیکن ویزوں کا اجراء ویزا کے تاجروں نے کیا تھا۔ ضوابط پر عمل درآمد کرتے ہوئے آبادیاتی نظام میں ترمیم کے ساتھ ساتھ حکومت ویزا جاری کرنے والی کمپنیوں کو بھی کنٹرول کرے گی۔

View this post on Instagram

محمد إبراهيم – في إطار الخطة الحكومية لتنقية سوق العمل من العمالة العشوائية وتعديل التركيبة السكانية، كثفت الجهات الأمنية جهودها لضبط تجار الإقامات والمسجلين على شركات بلا مقار وبلا أنشطة حقيقية على ارض الواقع. وفجرت مصادر أمنية مفاجأة من العيار الثقيل، كاشفة عن أن الجهود الأمنية الأخيرة أسفرت عن ضبط 450 شركة وهمية وأحيلت ملفاتها إلى جهات التحقيق، ونتيجة لذلك سيغادر البلاد 100 ألف مقيم حتى نهاية عام 2020، وذلك عقب احالة شركاتهم المسجلين عليها إلى جهات التحقيق بتهمة تجارة الإقامات، ما يعني عدم وجود عمل حقيقي لهم، فضلاً عن وضع قيود أمنية ورموز إغلاق على ملفاتهم. وقالت المصادر لـ القبس: إنه ومنذ تكثيف التحركات الأمنية على كل الاصعدة لمحاصرة تجارة الإقامات بشكل غير مسبوق خلال الفترة الماضية، جرت إحالة نحو 450 شركة ومؤسسة إلى جهات التحقيق من خلال 300 قضية. واضافت المصادر أنه وبالتدقيق على ملفات تلك الشركات والمؤسسات تبين أن لديها نحو 100 ألف عامل مسجلين عليها، وجميعهم ليس لديهم عمل حقيقي، وإنما كانوا يحصلون على الاقامة من خلال تلك الشركات الوهمية مقابل مبالغ مالية، ومن ثم يتجهون للأعمال خارج نطاق شركاتهم، مبينة ان هذه الحصيلة تعتبر باكورة التحرك الجاد والواسع لتعديل التركيبة السكانية وضبط تجار الإقامات وترحيل العمالة العشوائية، وستتبع ذلك خطوات أخرى مشددة. واشارت المصادر إلى أن وزارة الداخلية ممثلة في الادارة العامة لمباحث شؤون الإقامة أحالت 535 شخصاً بينهم 55 مواطناً إلى جهات التحقيق لتورطهم في تلك القضايا، لافته إلى أن عمليات التفتيش والفحص على الشركات الوهمية والمزارع لا تزال جارية، وذلك بالتعاون مع الفرق المختصة بوزارة الشؤون، مبينة أن الكثير من ملفات هذه المزارع تعتبر بوابة لتجارة الإقامات. واوضحت المصادر أن بعض هؤلاء العمال غادروا بالفعل بمجرد علمهم بتحويل شركاتهم ومؤسساتهم إلى جهات التحقيق، ولن يستطيعوا العودة مرة آخرى، والباقون بانتظار فتح المجال الجوي أمامهم للمغادرة. وقدرت المصادر مبالغ تصل إلى نحو 66 مليون دينار جنتها هذه الشركات الوهمية خلال العامين 2018 – 2019 حيث تبين استقدام نحو 30 ألف عامل من دول عربية وآسيوية، بحصيلة إجمالية تصل إلى حوالي 45 مليون دينار، إذ يبلغ ثمن الفيزا الواحدة نحو 1500 دينار لبعض الجنسيات وتزيد لجنسيات أخرى. #القبس_أمن_ومحاكم

A post shared by القبس (@alqabas) on

حوالہ: روزنامہ القبس

وزارت داخلہ نے رہائشی امور کے محکمے کے تعاون سے 535 افراد کو ان معاملات میں ملوث ہونے پر تفتیشی حکام کے حوالے کیا ہے جبکہ ان 535 افراد میں 55 کویتی شہری بھی شامل ہیں جو غیر قانونی طور پر ویزا تجارت کے معاملے میں غیر ملکیوں کو مدد فراہم کررہے تھے۔

جعلی کمپنیوں کے علاوہ فارمز (جسے مقامی زبان میں مذرہ کہتے ہیں) نے بھی غیر قانونی طور پر ویزا تجارت کے مواقع فراہم کئے تھے۔ کچھ کارکنوں کو جب خبر ہوئی کہ انکی کمپنیوں اور دفاتر کو تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے تو وہ انکو چھوڑ کر اپنے ممالک واپس چلے گئے کیونکہ اس بات سے باخبر تھے کہ اگر ان کمپنیوں کے خلاف قانونی کاروائی شروع ہوئی تو وہ واپس کویت نہیں آسکیں گے تاہم کچھ ایسے ملازمین بھی تھے جنکے ممالک میں کمرشل پروازوں کا آغاز نہیں ہوسکا تھا اور وہ اب تک کویت میں ہی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ویزا کی تجارت کرنے والی جعلی کمپنیوں نے پچھلے دو سال (2018-2019)کے درمیان تقریباً 66 ملین کویتی دینار کا مالی فائدہ اٹھایا۔غیر ملکیوں کو بیچے گئے ویزوں کی قیمت 1500 دینار فی ویزا تھی اسکے علاوہ عرب اور ایشیائی ممالک سے تقریباً 30،000 کارکنان کویت لایا گیا تھا اور کچھ قومیتوں کے شہریوں سے تو فی ویزا کی قیمت 1500 دینار سے بھی ذیادہ چارج کی گئی تھی جبکہ 70,000 کے رہائشی اقاموں کے تجدید کے لئے 21 ملین دینار وصول کئے گئے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ٹریول ایجنسیوں نے 14 دن قیام کے پیکیج پیش کرنا شروع کر دئیے۔

سب سے پہلے رہائشی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ان افراد کو گرفتار کیا جائے گا جنہوں نے حکومت کی طرف سے دی گئی اپریل 2020 میں عام معافی سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اسکے بعد خلاف ورزی کرنے والوں اور ویزا تاجروں کے خلاف اب ایسی مہم کا آغاز کیا جائے گا جو کویت کی تاریخ میں نہیں ملتی، کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا اور پہلا ہدف ملک میں کھیتی باڑی اور کھیتوں کی دیکھ بھال کے لئے جعلی ویزا پر بلائے گئے ملازمین اور کسان ہونگے۔

کویت اردو نیوز کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب ضرور کریں

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ