کویت

کویت: 31 ممالک کی پابندی ہٹائے جانے کا فیصلہ کب ہو گا؟

کویت سٹی 06 اگست: پابندی لگائے گئے 31 ممالک پر ہر 10 دن بعد جائزہ لیا جائے گا جبکہ 13 مارچ سے پہلے جاری کردہ تمام قسم کے ویزے کو منسوخ کر دئیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندی لگائے گئے 31 ممالک میں انفیکشن میں اضافے اور کمی کی بنیاد پر تارکین وطن کو روکنے کے فیصلے کا ہر 10 دن بعد جائزہ لیا جائے گا۔ اس فیصلے میں یہ فیصلہ شامل کیا جاسکتا ہے کہ ضرورت کے مطابق ججوں، ڈاکٹروں ، نرسوں ، اساتذہ جیسے مخصوص تارکین وطن کو ترجیح دیتے ہوئے پہلے ملک واپس لوٹنے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب کویتی شہریوں کو یورپی یونین میں داخل ہونے سے روکا گیا تو حکومت اس فیصلے کو سمجھ گئی اور اس پر احتجاج نہیں کیا۔ ملک کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت کے اقدامات اٹھائے گئے کیونکہ تمام ممالک اس فیصلے کو سمجھتے ہیں اور یہ کویت کا خود مختار فیصلہ ہے۔

13 مارچ سے پہلے جاری کیے جانے والے ہر قسم کے ویزے کو منسوخ سمجھا جائے گا جو لوگ دوبارہ ویزہ حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں نئی شرائط و ضوابط کے مطابق درخواست دینا ہوگی جس کا اعلان بہت جلد کردیا جائے گا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کویت سے بھارت کے لئے پروازیں بحال کر دی گئیں

وزارت داخلہ کو وزارت امور خارجہ کا ایک باضابطہ خط موصول ہوا جس میں اس نے 13 مارچ سے قبل جاری کیے گئے نئے ویزوں کی توثیق کے بارے میں اپنی قانونی رائے طلب کی ہے۔ ویزا کے حصول / اجراء کے لئے تمام مطلوبہ باضابطہ اور قانونی حیثیت مکمل ہونے کے باوجود 12 مارچ سے ہوائی اڈے بند ہونے سے ملک سے باہر رہنے والے غیر ملکی داخلے میں ناکام رہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ متعلقہ اداروں نے اپنی رپورٹ پیش کی ہے کہ وہ ہر قسم کے ویزہ کو قانون کے ذریعہ منسوخ کرنے پر غور کریں کیونکہ 5 ماہ سے زائد ہونے کی وجہ سے ان ویزوں کی معیاد پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔

اقامہ لگنے کے باوجود اگر آپ کے پاس بطاقہ نہیں ہے تو پریشان مت ہوں

ویزوں میں فیملی ، سیاحتی ، تجارتی اور سرکاری دوروں کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے ڈیپنڈنٹ اور ورک ویزہ شامل ہیں۔
13 مارچ سے پہلے جاری تمام ویزوں کے لئے ایک لئے خاص لائحہ عمل مرتب کرانے کے لئے متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

حوالہ
عرب ٹائمز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ