کویت

کویت: 60 سال سے زیادہ عمر والے افراد کویت واپس نہیں آسکتے

کویت سٹی 23 جولائی: روزنامہ عرب ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 60 سال سے زیادہ عمر والے افراد کویت واپس نہیں آسکتے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کے رہائشی  امور کے شعبہ نے ان 70،000 تارکین وطن جنکے رہائشی اجازت ناموں (ویزے) کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور وہ اپنے ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں کے  معاملات کی جانچ پڑتال کرنا شروع کردی ہے اور آئندہ ہفتے تک ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ لیا جائے گا جو واپس آنے کے مستحق ہیں۔

یہ مطالعہ اگلے ہفتے اجلاس میں کیا جائے گا جس میں متعدد اور انتہائی اہم سفارشات شامل ہوں گی جن میں ان افراد کا تعین کیا جائے گا جو کویت میں اپنی سابقہ ​​رہائشی اجازت نامے کے ساتھ ساتھ واپسی کی شرائط پر پورا اترتے ہیں اور وہ بھی جو واپس بلائے جانے کے مستحق نہیں ہیں۔ جن افراد کے رہائشی معاملات کے قانونی حل حالات کے سبب انکی دسترس سے باہر تھے انکے معاملات کا مطالعہ کیا جائے گا بشرطیکہ لیبر مارکیٹ میں انکی ضرورت ہو۔

ذرائع کے مطابق کچھ تارکین وطن کے رہائشی ویزوں کی معیاد انکے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے اور وہ نئے پاسپورٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے کیونکہ ان کے ممالک میں کورونا بحران کی وجہ سے پاسپورٹ آفس بند کردیئے گئے تھے۔

کچھ تارکین وطن کے رہائشی ویزوں کی  میعاد ختم ہوگئیں اور ان کی کمپنیوں نے آن لائن  تجدید بھی نہیں کی حالانکہ ان کے گھر بار کویت میں ہیں اور ان کے معاشی واجبات واجب الادا ہیں۔  اس تحقیق میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں ان میں سے کچھ غیر معمولی خصوصیات کے حامل ہیں جن کے اہل و عیال کویت میں رہائش پزیر ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: کرائے میں معافی نہیں ہو گی

مطالعہ میں 60 سال سے زائد عمر کے معمولی کارکنان کی واپسی روکنے کی سفارش کی جائے گی جن کی رہائشی ویزے جعلی کمپنیوں کے ہیں جس کی اصل ملازمت نہیں ہے اور وہ کوئی اور کام کرکے گزر بسر کرتے ہیں۔

کچھ تارکین وطن چند دن کے علاوہ کویت میں نہیں ٹھہرتے ہیں اور اپنے وطن لوٹ جاتے ہیں اور 6 ماہ کے اختتام سے قبل ملک میں داخل ہوجاتے ہیں وہ صرف اپنی ویزے برقرار رکھنے کے لئے ایسا کرتے ہیں ان لوگوں کو دوبارہ اپنی رہائشی ویزوں کی تجدید کی اجازت نہیں ہوگی۔

وہ افراد جن کے رہائشی ویزوں کی میعاد ختم ہوگئی ہے اور جنھیں واپس نہیں بلایا جائے گا پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت ان کی کمپنیوں سے انکے واجبات وصول کرے گی جن کے لئے وہ کام کر رہے ہیں اور ان واجبات کی وصولی کا عمل ویب سائٹ کے ذریعے شروع کیا جائے گا۔  ان واجبات کی وصولی قانونی طریقے سے کی جائے گی۔

گھریلو ملازمین:

عمر اور سیکیورٹی ریکارڈ کارکن کے واپس آنے یا نہ آنے کا بنیادی معیار ہے۔ اگر گھریلو کارکن 60 سال کی عمر سے تجاوز کرچکا ہے تو اسے واپس آنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور کفیل کو اس کی جگہ کسی اور کارکن کو رکھنا ہوگا نیز جن لوگوں کا سیکیورٹی ریکارڈ صاف نہیں ہے ان کو بھی اجازت واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

میعاد ختم ہونے والے رہائشی ویزوں کے لئے طریقہ کار:

ذرائع نے بتایا ہے کہ کئے گئے مطالعے کے مطابق جن تارکین وطن کو واپس آنے کی اجازت دی جائے گیا انھیں وزٹ ویزا جاری کیا جائے گا اور پھر وزٹ ویزا کو ان کے سابقہ ​​رہائشی ویزوں میں منتقل کردیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایسی جعلی کمپنیاں ہیں جو ویزا ٹریڈنگ اور رہائشی ویزوں کا کاروبار کرتی ہیں لہذا رہائشی امور کی انویسٹی گیشن فیلڈ اور انسپیکشن دوروں کے ذریعے یہ طے کرے گی کہ آیا یہ کمپنیاں موجود ہیں اور کام کررہی ہیں۔

حوالہ
عرب ٹائمز
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ