کویت

کویت: کرایہ دار کرایہ ادا کریں یا قانونی کارروائی کا سامنا کریں

کویت سٹی 06 جولائی: کرایہ دار کرایہ ادا کریں یا عدالت کا سامنا کریں”۔

زندگی کو معمول کی طرف لوٹنے کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے بعد معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بغیر کرایہ ادا کیے کسی اپارٹمنٹ میں رہنے والے کرائے داروں سے کرایہ وصول کرنا بھی رئل اسٹیٹ کمپنیوں کی اولین ترجیح بن گئی ہے۔

متعدد ریل اسٹیٹ کمپنیوں نے اپنے کرایہ داروں کو سرکاری وارننگ بھیجی جس میں کہا گیا ہے کہ “جن لوگوں نے لاک ڈاؤن مدت کے دوران کرایہ ادا نہیں کیا ہے وہ فوری طور پر کرایہ ادا کریں ورنہ ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔”

رئل اسٹیٹ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق کرایہ داروں کو کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے جس کے لئے کرایہ دار خدمات حاصل کرتے ہیں۔

روزنامہ الراي کے ذریعہ لئے گئے ایک انٹرویو میں کرایہ داروں کی تعداد نے بتایا کہ انہیں گذشتہ ہفتے رئل اسٹیٹ کمپنیوں کے دستخط شدہ وارننگ خط موصول ہوئے ہیں جس میں زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری ادائیگی کریں۔

رئل اسٹیٹ کمپنی میں سے ایک نے اپنے وارننگ خط میں کہا ہے کہ “ہم آپ کو اپریل سے جون کے دوران کرائے کے اپارٹمنٹ کے کرایہ ادا کرنے میں تاخیر سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں براہ کرم واجبات کی ادائیگی کریں یا کمپنی کے آفس جائیں دونوں ہی معاملات میں ناکامی کی صورت میں ہم قانونی اقدامات اٹھائیں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: مساجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی

رئل اسٹیٹ کمپنیوں کو مارچ کے بعد سے لاک ڈاؤن کے عرصے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ کرایہ داروں کی بڑی تعداد اپریل سے جون تک اپنے کرایہ ادا کرنے سے گریزاں تھی جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کو خاص طور پر اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور بحالی کا کام انجام دینے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ رئل اسٹیٹ کمپنی کے دفاتر بھی بند کردیئے گئے تھے اور بلڈنگ گارڈز (حارس) نے سرکاری طور پر کرایہ داروں کو زبانی یہ پیغام پہنچایا تھا۔

کچھ رئل اسٹیٹ کمپنیوں نے صرف 10 اور 40 فیصد تک کرایوں کی وصولی کی ہے۔خصوصی طور پر نجی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی نوکریوں کے مسئلے اور اور فضائی آپریشن کے شروع ہونے کے بعد غیر ملکیوں کے اخراج کے خدشے کے پیش نظر رئل اسٹیٹ کمپنیاں جلد از جلد کرایوں کی وصولی کررہی ہیں۔

کچھ رئل اسٹیٹ کمپنیوں کے لئے کرایہ کم یا تاخیر سے وصول کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کمپنیوں نے کرایہ میں کمی نہیں کی تھی کمپنیوں نے کرایہ داروں کے مالی حالات پر کسی قسم کا نہ دھیان دیا تھا اور نہ ہی انسانی ہمدردی کے باعث کرایوں کو کم کیا اور نہ کوئی پیش کش کی کیونکہ کچھ کمپنیوں نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنی تنخواہوں میں کمی نہیں کی تھی تاہم ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اس بحران کے دوران اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کچھ کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے اور کچھ کی تنخواہیں کم کردی گئی ہیں ایسے تمام کرایہ دار کرایہ دینے سے قاصر ہیں۔

کرایہ داروں کے بڑے حصے نے کرایہ میں کمی یا استثنیٰ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ آنے والے عرصے کے دوران صحیح حکمت عملی پر عمل درآمد کر کے ان کرایہ داروں کے ساتھ فی الوقت اچھا انسانی سلوک کمپنیوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے خاص طور پر جب ملک آنے والے عرصے میں آبادیاتی ترمیم کی طرف گامزن ہے جس کی وجہ سے رئل اسٹیٹ کمپنیوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عمارت کے انفرادی مالکان کے بارے میں بات کی جائے تو ان میں سے کچھ نے اپنے کرایہ داروں کو چھوٹ کی پیش کش کی تھی۔ ان میں سے کچھ نے ستمبر کے آخر تک 50 فیصد رعایت کی پیش کش کی ہے چند مالکان 50 فیصد کم اور بعض 30 فیصد کم کرائے وصول کر رہے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ نے اپنے کرایہ داروں پر ادائیگی کے لئے دباؤ ڈالا ہے اور مختلف غلط طریقوں کا سہارا لیا تھا چند نے تو کرایوں کی وصولی کے لئے گھروں کی بجلی اور پانی کے کنکشن بھی منقطع کردیئے جسکی وجہ سے کرائے دار شدید گرمی اور مشکلات کے باعث گھروں کے باہر وقت گزارنے اور سونے پر مجبور ہیں۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

2 تبصرے

  1. سراسر ظلم ہے، عالمی قانون ہے کے جنگ اور قدرتی آفات اور دیگر قدرتی وبائی امراض کی صورت میں ہر ملک کرایہ داروں کے کرائے اور قرض داروں کے قرضے معاف کر دے اور عوام کے کھانے پینےاور علاج معالجے اور دیگر ضروریات کا ذمہ حکومت اٹھائے مگر یہاں اس صورت حال میں بھی تلوار ہماری گردنوں پر لٹکائی جا رہیں ہیں جبکہ دیگر ممالک امریکا کینڈا اور یورپی ممالک نے جی بھر کے ملکی اور غیر ممالک سے آئے ہئوے لوگوں کو قرضوں میں بھی چھوٹ دی ہے اور خاص کر کینیڈا نے سب سے زیادہ اپنی عوام اور دوسرے لوگوں کا خیال رکھا
    خیر ان کا تو بزنس ہی رئیل اسٹیٹ ہے اللہ ان کے دل نرم کرے
    میرے سارے پاکستانی بھائیوں سے درخواست ہے کہ میں اسطرح کے حالات 1990 میں بھی دیکھ چکا ہوں تب میں 17 سال کا تھا اور میرے والد جنگ میں ایسے ہی پریشان تھے جیسے آجکل میں اور آپ لوگ ہیں سامنے کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا
    آپ سب کوشش کریں کہ اپنے ملک میں چاہے گلی میں کریانہ سٹور ہی ڈال لیں مگر ضرور کچھ کریں اور آئندہ حالات جلدی ٹھیک ہوتے نظر نہیں آ رہے
    اللہ ہم سب کا حامی اور ناصر ہو آمین

  2. لوگوں کے پاس کھانے کے لئے پیسے نہیں ھیں تو وہ کرایہ یہے ادا کریں گے ویسے بھی لوگ فلائٹ کھلنے کا انتظار کر رھے ھیں پھر ان فلیٹس کا کیا کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ