کویت

کویت محفوظ اور پر امن ممالک کی فہرست میں شامل

کویت سٹی 29 جون: روزنامہ القبس کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیائی ادارہ برائے معاشیات اور امن (آئی ای پی) نے کویت کو محفوظ اور پرامن ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیائی ادارہ برائے معاشیات اور امن (آئی ای پی) کی طرف سے جاری کردہ ایک مطالعہ میں کویت نے دنیا کے 50 سب سے محفوظ اور پرامن ممالک جبکہ خلیج میں متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ 3 بہترین ممالک کے طور پر درجہ بندی کی ہے۔ دنیا کے 163 آزاد ممالک اور خطوں میں ریاست کے امن کے بارے اور اس کی درجہ بندی کرنے والے اس انسٹیٹیوٹ نے کویت کو ایک بار پھر خلیجی ریاستوں کی سطح پر دوسرا جبکہ عالمی سطح پر 39 واں درجہ دیا۔ خلیج میں قطر کا پہلا اور دنیا میں 27 واں نمبر ہے۔ امارات خلیج میں تیسری اور عالمی سطح پر 41 نمبر پر ہے۔

View this post on Instagram

مي السكري – حلت الكويت مع الإمارات وقطر كأفضل 3 دول في منطقة الشرق الأوسط وشمال أفريقيا ضمن أكثر 50 دولة تتمتع بالأمن والسلام في العالم، في دراسة أصدرها معهد الاقتصاد والسلام الأسترالي (IEP). وصنف المعهد في دراسته التي تتتبع وتصنف حالة السلام في 163 دولة ومنطقة مستقلة في جميع أنحاء العالم، الكويت ثانية على مستوى دول الخليج والـ39 عالميا بعد قطر الأولى خليجيا والـ27 على مستوى العالم، وبعدهما الإمارات في المرتبة الثالثة خليجيا والـ41 عالميا. في مؤشر الدول الأكثر سلمية، احتلت عمان الترتيب الرابع على مستوى الخليج والـ68 على العالم، فيما جاءت البحرين في التريتب الخامس خليجيا والـ110 عالميا، ثم السعودية التي احتلت المرتبة 128 عالميا. ووصفت الدراسة منطقة الشرق الأوسط وشمال أفريقيا (MENA) بأنها الأقل سلمية في العالم للسنة السادسة على التوالي. ولم يقتصر التدهور في السلام العالمي على أي منطقة أو مؤشر أو دولة واحدة، ورغم ذلك فإن الصراع في الشرق الأوسط كان المحرك الرئيسي لتضاؤل ​​السلام في العالم، وفقًا للدراسة. #القبس_المحلي

A post shared by القبس (@alqabas) on

انتہائی پرامن ممالک کے انڈیکس میں عمان خلیج کی سطح پر چوتھے اور دنیا میں 68 ویں نمبر پر ہے جبکہ بحرین خلیج میں پانچویں اور عالمی سطح پر 110 ویں نمبر پر ہے۔ اس کے بعد سعودی عرب خلیجی ممالک میں 6 جبکہ عالمی سطح پر 128 ویں نمبر پر ہے۔

اس تحقیق میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ (MENA) کے خطے کو لگاتار چھٹے سال دنیا کا سب سے کم پرامن بتایا گیا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق عالمی امن میں رکاوٹ کسی ایک خطے، انڈیکس یا ملک تک ہی محدود نہیں اس کے باوجود مشرق وسطی میں تنازعہ دنیا میں امن کو کم کرنے کا اصل محرک ہے۔
حوالہ: روزنامہ القبس

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ