کویت

مھبولہ اور جلیب کے رہائشی قرضوں میں ڈوب گئے

کویت سٹی 25 جون: روزنامہ عرب ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مھبولہ کے رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد کو علاقے میں  سخت قرنطین کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے رہائشیوں نے شکایت بھی کی اور مشکلات سے آگاہ بھی کیا۔

قرنطین نے ان کے دکھوں کو مزید طویل کردیا ہے اور ان کی پریشانیوں کو دگنا کردیا ہے کیونکہ وہ روزگار کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں نہ تنخواہ اور نہ ہی اپنی زندگی کو چلانے کے لئے کسی بھی طرح کی آمدنی موجود ہے۔ بہت  سے لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے ہیں یا خیراتی اداروں  کی امداد پر  انحصار کررہے ہیں اور کئی رہائشی گروسی اور دیگر ضروریات زندگی  ادھار لینے  پر مجبور ہیں۔

بہت سے رہائشیوں نے بتایا کہ زندگی گزارنے کے لئے انکی مالی صلاحیتیں ختم ہوچکی ہیں کیونکہ انہیں گذشتہ 4 ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی ہے یا مالی واجبات جو متوقع تھے کہ انکو ملیں گے ادا نہیں کئے گئے۔ کئی رہائشیوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ گروسری کے قرض میں ڈوب چکے ہیں کمپنیوں کے مالکان جانتے ہیں کہ قرنطین اور آمدنی نہ ہونے کے سبب وہ کن مشکلات کا شکار ہیں۔

خیراتی ادارے اس خطے میں موجود ہیں جہاں وہ کھانا تقسیم کرتے رہتے ہیں۔  نما فاؤنڈیشن سوسائٹی نے دو روز قبل 5،800 کھانے کے باکس تقسیم کیے جن میں 3،000 باکس ریفارم سوسائٹی نما فاؤنڈیشن کی بھی تھیں۔

عبداللہ النوری چیریٹیبل سوسائٹی کے سرگرم مینیجر عبدالہادی الرشید نے بتایا کہ انہوں نے کھانے کے ایک ہزار باکس تقسیم کرنے میں حصہ لیا۔  چیریٹی سوسائٹی نے مھبولہ کے رہائشیوں کو 1،800 فوڈ پارسل اور 6000  روٹی کے بیگ تقسیم کئے اور ایسوسی ایشن کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر عمر الثوانی نے اس بات کی تصدیق کی کہ متاثرہ لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے لئے انجمن کی کوششیں جاری ہیں۔

اسپیشل فورسز مھبولہ کے رہائشیوں کو کھانے کے باکس اور روٹیوں کی تقسیم کے لئے ہموار طریقے سے مدد فراہم کررہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد مشترکہ خیراتی تنظیموں سے فائدہ اٹھاسکیں جو بھوکے لوگوں کو کھانے کی سہولت فراہم کررہی ہیں۔

یاد رہے کہ اسی سے ملتی جلتی صورتحال جلیب الشویخ میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں پچھلے 3 ماہ سے لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے رہائشی سخت مشکلات اور تکالیف سے دوچار ہیں۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

Open

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ