کویت

تارکین وطن کی تعداد کم کرنا کویت کے لیے درد سر بن گیا

کویت سٹی 23 جون: روزنامہ عرب ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آبادیاتی نظام میں فوری طور پر ترمیم کرنا ناممکن ہے۔

تفصیلات کے مطابق روزنامہ کے سرکاری ذرائع نے آبادیاتی امور میں تیزی سے ترمیم کرنے میں تبدیلی کے حصول کی صلاحیت پر شبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ “تبدیلی ناممکن ہے، معاشرتی تصورات اور دوسروں پر انحصار کم کرنے کے لئے ایک جامع مطالعہ کی ضرورت ہے کیونکہ غیر ملکیوں پر فیسوں میں اضافے اور دیگر قانون سازی میں ترمیم کرنے کے لیے فیصلوں کی ایک سیریز کی ضرورت ہے۔

ذرائع نے حکومتی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے جس کے مطابق 2030 تک کویتیوں کے نسبت تارکین وطن کی تعداد کو تقریبا 70 فیصد تک کم کرنا ہے اور ہر قومیت کا حصہ کویتی شہریوں کی کل تعداد کی نسبت زیادہ سے زیادہ 20 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ حیران کن بات یہ تھی کہ ایک سال کے بعد ملک میں تارکین وطن کی تعداد میں1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ وزرات نے تارکین وطن کی تعداد کو کم کرنے کی تجویز کو اپنایا۔

ذرائع نے بتایا کہ اس تجویز کے تحت ملک میں زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 سال کے درمیان رہائش کو محدود کرنا بھی ہے جس پر عمل درآمد اعلی سطح اور ملک میں متعدد جماعتوں کے تعاون سے ہونا ضروری ہے لیکن اس بارے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

زرعی شعبے میں گھریلو اور رجسٹرڈ مزدوروں کی افراط زر جو بحران کا ایک بنیادی ستون ہے، 10 لاکھ سے زائد کارکنان ان شعبوں میں رجسٹرڈ ہیں جو کویتی آبادی کا تقریبا 60 فیصد ہیں اسی طرح دوسرے شعبوں میں بھی ایسا ہے۔

متعلقہ سیاق و سباق میں اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تارکین وطن کی ملازمت میں 1 فیصد (2018 کے آخر میں تقریبا 74.5 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں تقریبا 75.5 فیصد تک) اضافہ ہوا ہے۔

تارکین وطن کی آبادی کی شرح 2019 میں 2018 کے مقابلے میں بڑھ گئی جس کی شرح تقریبا 3.9 فیصد ہے جبکہ 2018 میں اس کی شرح تقریبا 2.8 فیصدتھی۔
حوالہ: عرب ٹائمز

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

Open

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ