کویت

مھبولہ کے رہائشیوں کے گلے شکوے

کویت سٹی 21 جون: روزنامہ عرب ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق رہائشیوں کا کہنا ہے کہ دوسرے علاقوں کو کھولنا ایک غیر منصفانہ سلوک ہے جبکہ اس کے برعکس مھبولہ اور جلیب الشویخ کے رہائشی پچھلے 3 ماہ سے مکمل لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے جلیب الشیوخ اور مھبولہ میں کورونا وائرس وبائی امراض کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے اور اس پر قابو پانے کے لئے ان دونوں خطوں کو مکمل لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔

روزنامہ نے کہا کہ جلیب الشویخ کا لاک ڈاؤن جائز تھا کیونکہ یہ خطہ بیچلرز کے ذریعہ متاثر ہے جو ناقص حالات میں رہتے ہیں لیکن مھبولہ بہت حد تک مختلف ہے کیونکہ ان علاقوں میں لوگ عمارتوں اور کمپلیکس میں رہتے ہیں اور عام طور پر کمپنیاں اپنے کارکنان کے لئے کرایے پر لیتی ہیں۔

ان کمپلیکسوں اور عمارتوں میں یورپی، امریکی اور مختلف قومیتوں کے افراد رہتے ہیں جو اس قسم کی ملازمت میں ملوث ہیں جنہیں اعلی درجے کے پیشے کہا جاتا ہے جبکہ ان میں سے اکثر امریکی فوج اور تیل کمپنیوں کے لئے کام کرتے ہیں۔

خطے میں رہنے والے لوگوں کے مطابق خدمات کی عدم فراہمی کے نتیجے میں اس علاقے میں مقیم مجموعی طور پر لاک ڈاؤن نے علاقے میں رہنے والوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ مھبولہ کے کچھ رہائشیوں نے بتایا کہ تین ماہ تک مکمل طور پر لاک ڈاؤن کے بعد انہیں لگتا ہے کہ ان کے ساتھ بہت ساری وجوہ کی بناء پر ناجائز سلوک کیا گیا ہے خاص طور پر چونکہ اس خطے میں رہنے والے غیر ملکیوں کا ایک بہت بڑا حصہ ہے ان میں سے کچھ نے صورتحال کو بیان کیا کہ وہ ایک نمایاں پوزیشن رکھتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ بھی پسماندہ کارکنان جیسا سلوک کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مھبولہ کو کوآپریٹو سوسائٹی (جمعیہ) جیسی بنیادی خدمات کا فقدان ہے اور انہوں نے کہا کہ ایک اسکول کو کوآپریٹو سوسائٹی (جمعیہ ) کی شاخ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے اور اسے سامان سے لیس کیا گیا ہے جو کہ دوسرے علاقوں میں موجود کوآپریٹو سوسائٹیوں اور سپر مارکیٹوں جیسے لوگوں کی تمام ضروریات کو پورا نہیں کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اس خطے میں کھانا پکانے کے گیس سلنڈرس سنٹر اور دیگر فیملی سامان کی بھی کمی ہے۔ بہت سارے غیر ملکیوں خصوصا امریکیوں اور یورپی باشندوں نے مھبولہ کے مکمل لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا فیصلہ آنے کے فورا بعد ہی کسی اور علاقے میں منتقل ہونے کی خواہش کے بارے میں بات کی۔

حوالہ: عرب ٹائمز

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ