کویت

معمولات زندگی دوبارہ بحال کرنے کی تیاریاں شروع

روزنامہ عرب ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی مقرر کردہ تاریخ کے مطابق 30 مئی کے اختتام تک زندگی بتدریج معمول پر لانے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں خاص کر وزارتیں دوبارہ کام شروع کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔


روزنامہ کے باخبر سرکاری ذرائع کے مطابق  کام کی بحالی کے آغاز سے پہلے ہر شعبے میں ملازمین کی کم تعداد، مزدوروں کے لئے فنگر پرنٹ سسٹم کے خاتمے اور ملازمین  کی بھیڑ کو روکنے کے لئے الیکٹرانک خدمات میں توسیع کا مشاہدہ کیا جائے گا۔ ملازمین اور زائرین کو ماسک پہننے اور سماجی دوری برقرار رکھنے کا پابند کرنے کے لئے صحت کے اقدامات کو سختی سے


نافذ کیا جائے گا۔ دفاتر کے داخلی راستوں پر تھرمل ٹیسٹ لیا جائے گا اور مسلسل جراثیم کش ادویات کا استعمال  ہوگا۔  ذرائع نے وضاحت کی کہ سرکاری ایجنسیوں کی رپورٹوں اور خود کار نظاموں پر بھروسہ کرتے ہوئے شہریوں اور رہائشیوں کے لئے خدمات مکمل طور پر مہیا کرنے کے لئے ان کی تیاریوں پر انحصار کرتے ہوئے ملک میں کام کی بحالی اور معمول کی زندگی عمل میں آئے گی۔ پہلے مرحلے کے دوران صبح اور شام کی شفٹ کے حساب سے کام ہوگا۔فنگر پرنٹ حاضری کے نظام کو عارضی طور پر معطل کردیا جائے گا۔

ڈرامہ سیریل خوب سیرت دیکھیں کیلئے یہاں کلک کریں


ذرائع نے اشارہ کیا کہ سرکاری اداروں کی اکثریت شہریوں اور رہائشیوں کے لئے الیکٹرانک خدمات کو شروع کر چکی ہے بشمول پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت ، پبلک انسٹی ٹیوٹ برائے سوشل سیکیورٹی ، وزارت داخلہ ، وزارت خارجہ ، پبلک اتھارٹی برائے سول انفارمیشن ، سول سروس کمیشن ، وزارت  فنانس ، کویت بلدیہ ، ریاست برائے رہائشی امور ، وزارت صحت ، وزارت بجلی و پانی ، وزارت سماجی امور اور وزارت تجارت و صنعت۔

دریں اثنا ذرائع نے تصدیق کی کہ ملک میں تعلیمی حکام نے اپنے تدریسی عملے کے لئے لیکچر دینے کے الیکٹرانک نظام سے واقف کرنے کے تربیتی کورسز کا انعقاد کیا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پبلک اتھارٹی فار اپلائیڈ ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (پی اے ای ای ٹی) نے اس کا آغاز تین ماہ قبل کیا تھا اور کویت یونیورسٹی اگست سے فاصلاتی تعلیم کا آغاز کرے گی۔ اس کے علاوہ ذرائع نے بتایا کہ بہت ساری الیکٹرانک خدمات مہروں اور مالی معاملات کی بجائے بار کوڈ مہیا کے ذرائع کی جائنگی۔

حوالہ: عرب ٹائمز

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ