کویت

کفالت سسٹم ختم ہونے کے امکانات روشن

کویت سٹی 20 مئی: کویت کے مقامی اخبار روزنامہ القبس کی رپورٹ کے مطابق مشیر برائے سماجی امور دہم الشمری نے روزنامہ کو بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ کفالت کے نظام کو ختم کرنے پر کام جلد ہی ختم ہوجائے گا اس معاملے پر کام کرنے والی پارٹیاں طویل انتظار کے بعد جلد ہی اس فیصلے کو منظر عام پر لائیں گی۔

الشمری نے زور دے کر کہا کہ وزارت امور جس کی نمائندگی پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کے ذریعہ کی جاتی ہے رہائشی علاقوں میں تجارت کرنے والی جعلی کمپنیوں کو جلد ہی بے نقاب کردے گی اور اس حوالے سے وزارت کی کوششیں جاری ہیں۔ 2018 اور 2019 میں بھی کئی ایسی جعلی کمپنیوں کی فائلیں بند کی گئی تھیں اور انکے خلاف درجنوں قانونی فیصلے جاری کئے گئے تھے۔

الشمری نے مزید کہا کہ لیبر انسپکشن ایڈمنسٹریشن میں صرف 400 انسپکٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ ملک میں کمپنیوں کی تعداد کا تخمینہ ہزاروں میں لگایا جاسکتاہے اس کے سبب تمام کمپنیوں کی جانچ قلیل مدت میں نہیں کی جاسکتی۔رہائشی اقاموں کی تجارت سے چھٹکارا پانے کے حل کے بارے میں الشمری نے جواب دیا کہ اس کا حل وزیر مریم العقیل اور انڈر سکریٹری عبد العزیز عبد شعیب کی ہدایات پر مبنی ایک مجوزہ ہے جو وزیروں کی کونسل میں پیش کیا جا چکا ہے۔ اس میں ایک مکمل میکانزم موجود ہے

جو وزارت امور و لیبر اور وزارت داخلہ کے مابین ایک خاص طریقہ کار وضع کرتا ہے اور اس کی نمائندگی محکمہ تحقیقات اور وزارت انصاف میں کی گئی ہے اس مسئلے کا حل قانون میں موجود ہے اور اسے کسی بھی نئے قانون کے اجرا کی ضرورت نہیں ہے۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

ایک تبصرہ

  1. اس ملک میں ہر مشکل کا سبب ہم لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے حالانکہ ہم ہر سانس کی یہاں قیمت ادا کرتے ہیں یہاں
    Emergency Natural
    Disaster Management Team
    کا فقدان ہے کسی بھی ہنگامی صورت میں ہم لوگ ان کا Easy target نظر آتے ہیں
    Human Rights کا کوئ concept نہیں نہ ہی یہ ادارہ کوئ خاص active ہے
    ہر قانوں ہم لوگوں کے لئے ہے کسی زیادتی کی صورت میں لیبر قانون at the end کفیل کو ہی support کرتا ہے شئون میں شکایت کر دیں تو ایک نئی مصیبتوں کو گلے ڈال لینے کا سبب بن جاتا ہے کئی سال مسائل حل نہیں ہوتے پیسے الگ لگتے ہیں اور بندہ رل الگ سے جاتا ہے یہ میں ذاتی طور پر آزما چکا ہوں
    یہسں انسان کی کوئی قدر نہیں in short

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ