بلاگ

کویت کا قدیم بازار “سوق مبارکیہ” کی ثقافت کھونے لگی

کویت اردو نیوز 08 جنوری: وقت کے ساتھ ساتھ “سوق مبارکیہ” کی ثقافتی شناخت ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔

تحریر جاری ہے‎

کئی سالوں سے قدیم مبارکیہ بازار کویت آنے والے زائرین کے لئے خاص اہمیت کا حامل رہا ہے خاص طور پر وہ لوگ جو تاریخ، ورثے اور ثقافت کی خوشبو کی تلاش میں آتے ہیں وہ اس بازار کو دیکھنے ضرور جاتے ہیں۔اس بازار کی تاریخ اور ثقافت اس بازار کو باقی دیگر بازاروں سے ممتاز کرتے ہیں جو جدت اور فیشن کے رنگوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ مستقبل میں اس کے ورثہ کی شناخت جدید طرز کی سرگرمیوں میں تبدیل کرنے کے بڑھتے ہوئے مطالبہ کی روشنی میں یہ اندیشہ ہے کہ یہ قدیم ثقافتی بازار اپنی مخصوص شناخت نہ کھو دے۔

روزنامہ الرای نے مبارکیہ مارکیٹ میں عرصہ دراز سے وہاں کام کرنے والے دکانداروں سے دور حاضر کے جدید طرز کے کیفے اور پرفیوم اسٹورز جیسی باقاعدہ سرگرمیوں کے حق میں اپنی سرگرمیاں تبدیل کرنے کے رجحان کے حوالے سے رائے کا جائزہ لیا۔ ان میں سے کچھ دکانداروں نے “مبارکیہ” کو اپنے ورثے کی شناخت کے کھونے پر خوف ظاہر کیا ہے جو سیاحوں کو اس کی طرف راغب کرتی ہے خاص طور پر خلیجی ممالک کی عوام جو سوق المبارکیہ کو کویت کا ایک اہم مقام سمجھتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مارکیٹ میں پرانی دکانوں اور سرگرمیوں کو معدوم ہونے سے بچانے کی درخواست کی ہے۔

سروے کے دوران پرفیوم اور گفٹ شاپس کے مالک فہد الثویخ نے کہا کہ “بدقسمتی سے مبارکیہ مارکیٹ حالیہ برسوں میں اس کی روایت سے محروم ہوتی جارہی ہے خاص طور پر خلیجی ممالک میں ہمارے بھائی جو بازاروں میں سستے داموں میں سامان خریدا کرتے تھے۔

الثوائخ نے مزید کہا کہ “خلیجی زائرین ہمارے لئے آئینہ سمجھے جاتے ہیں ہم دکانوں کے مالک ہیں اور جب وہ ورثہ کی دکانوں کے بارے میں پوچھتے ہیں جس نے اپنی سرگرمیاں تبدیل کردی ہیں تو ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ مارکیٹ اب اپنی ثقافت اور ورثے کی شناخت کھو رہی ہے۔”

الغرابلی شاہراہ کے داخلی دروازے پر عبداللہ التمیمی کی گھریلو برتن فروخت کرنے کی دکان ہے۔ حالیہ برسوں میں اس بازار کی بدلتی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “پرانی دکانوں کے مالکان کی نقل مکانی کے بعد نئی سرگرمیوں میں مہارت رکھنے والے تاجروں نے ان کی جگہ لے لی ہے جس کے بعد جدید سرگرمیوں کے سبب بازار کا روایتی حسن ختم ہوتا جارہا ہے”۔

التمیمی نے کہا کہ “میں پرانی دکانوں کے مالکان پر الزام نہیں لگا سکتا جن کو دکان چھوڑنے کے عوض 40 یا 50 ہزار دینار کی پیش کش کی جاتی ہے لیکن ریاست کو ورثے کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا انہیں بازار کی پہچان کو برقرار رکھنے لئے اقدامات اٹھانے ہوں گے ورنہ وہ دن آئے گا جب “سوق المبارکیہ” کا نام تبدیل ہوجائے گا”۔

حوالہ
الرای
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ