بلاگ

دنیا کا بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ اور اونچا ہو گیا

نیپال اور چین نے مشترکہ طور پر اعلان کیا ہے کہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی “ماؤنٹ ایورسٹ” کی اونچائی میں پہلے کے مقابلے میں 0.86 میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔

تحریر جاری ہے‎

دونوں ممالک نے 8 ہزار 848 اعشاریہ 86 میٹر (29،032 فٹ) کی نئی اونچائی پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے پہلے تک دونوں ممالک میں اس بات پر اختلاف تھا کہ چوٹی پر جمی برف کی نوک کو بھی اس اونچائی میں شامل کیا جائے یا نہیں۔

چین کی سابقہ ​​سرکاری پیمائش 8844.43 میٹر تھی جو نیپال کی جانب سے کی گئی پیمائش سے چار میٹر کم تھی۔

ماؤنٹ ایورسٹ چین اور نیپال کی سرحد پر واقع ہے اور کوہ پیما اسے سر کرنے کے لیے دونوں اطراف سے چڑھتے ہیں۔

نیپال کی وزارت خارجہ اور محکمہِ سروے کے عہدیداروں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی سروے ٹیموں نے نئی اونچائی پر اتفاق کرنے کے لیے مل کر کام کیا ہے۔

گذشتہ سال چین کے صدر شی جن پنگ کے کھٹمنڈو کے دورے کے دوران دنیا کی سب سے اونچی چوٹی کی نئی پیمائش کا مشترکہ طور پر اعلان کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا۔

سرکاری اونچائی میں فرق کیوں؟

اس سے قبل چینی حکام کا کہنا تھا کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو اس کی پتھریلی اونچائی کے حساب سے ناپا جانا چاہیے جبکہ نیپالی حکام کا کہنا تھا کہ سمٹ کے اوپری حصے پر برف کی نوک کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

چینی سروے ٹیموں نے 2005 میں چوٹی کی پیمائش کے بعد اپنے اعداد و شمار جاری کیے تھے۔ نیپال کے سرکاری عہدیداروں نے 2012 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان پر چین کا دباؤ ہے کہ وہ ان کی جانب سے کی گئی پیمائش کو قبول کریں اور اسی وجہ سے انھوں نے نئی پیمائش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

نیپال، ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی 8،848 میٹر استعمال کرتا آ رہا ہے جس کا تعین 1954 میں سروے آف انڈیا نے کیا تھا لیکن اب پہلی بار نیپال نے اس سمٹ کی خود پیمائش کی ہے۔

نیپال کے چار سروے اہلکاروں نے سمٹ تک جانے سے پہلے اس مشن کے لیے دو سال تک تربیت حاصل کی تھی۔

چینی سروے ٹیم مئی میں سمٹ پر پہنچی۔ وہ اس سال ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی واحد ٹیم تھی۔

نیپال کے محکمہ سروے کے ترجمان، دامودر دھکال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس سے پہلے ہم نے خود کبھی پیمائش نہیں کی تھی۔‘

دھکال کا کہنا تھا کہ ’اب جب ہمارے پاس ایک جوان، تکنیکی ٹیم (جو ایورسٹ سمٹ پر بھی جاسکتی ہے) موجود ہے تو ہم خود ہی یہ کام کر سکتے ہیں۔‘

کیا  اونچائی پر سوالات کی کوئی اور وجہ بھی ہے؟

کچھ ماہر ارضیات کا خیال ہے کہ 2015 میں آنے والے ایک بڑے زلزلے کا ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی پر اثر پڑا تھا۔

نیپال میں 7.8 اعشاریہ 8 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں قریب 9،000 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ایک برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کے کچھ حصے بھی برف تلے دب گئے تھے۔ اس حادثے میں کم از کم 18 کوہ پیما ہلاک ہوئے تھے۔

پیمائش کے لیے نیپال کی سروے ٹیم کے دو افراد ایورسٹ کے سمٹ تک پہنچے۔

کچھ ماہرین ارضیات نے بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ایورسٹ کی برف کی نوک سکڑ سکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ہمالیہ کی کچھ اور چوٹیاں جیسے لانگتاانگ ہمل، جو کھٹمنڈو کے شمال میں اور زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہیں، زلزلے کے بعد ان کی اونچائی میں کم و بیش ایک میٹر کی کمی واقع ہوئی ہے۔

کئی دوسرے سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسری ہمالیائی چوٹیوں کی طرح ماؤنٹ ایورسٹ بھی شاید وقت کے ساتھ ساتھ اونچی ہو گئی ہے اور اس کی وجہ شاید ان ٹیکٹونک پلیٹوں (ارضیاتی پرتوں) کی جگہ میں تبدیلی ہے جن پر یہ بیٹھی ہوئی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے زلزلوں کے نتیجے میں اس عمل کے باعث آنے والی تبدیلیوں کا رخ مڑ سکتا ہے۔

دھکال کہتے ہیں کہ ’اس چوٹی کی دوبارہ پیمائش کی ایک وجہ 2015 کا زلزلہ بھی ہے۔‘

ماؤنٹ ایورسٹ کو دوبارہ کیسے ناپا گیا؟

پہاڑوں کی اونچائیوں کو سمندر کی سطح کے وسط کے ساتھ ناپا جاتا ہے۔ لہذا چوٹی کے اوپری حصے کے بجائے اس کی سطح سمندر سے پیمائش زیادہ اہم ہے۔

نیپال نے خلیج بنگال کو سطح کے طور پر استعمال کیا لیکن انڈیا پہلے ہی انڈیا اور نیپال کی سرحد کے قریب ایورسٹ کے خلیج بنگال سے قریبی مقام کا سروے کر چکا تھا، لہذا انڈیا نے نیپال کی سروے ٹیم کو اس مقام کی اونچائی بتانے میں مدد فراہم کی۔

اس مقام سے نیپال نے قریب 250 کلومیٹر (155 میل) رقبے پر پھیلے ان تمام مقامات کا ایک نیٹ ورک بنایا جہاں سے ایورسٹ کی چوٹی نظر آنا شروع ہوتی ہے۔ اور پھر نیپالی ٹیم نے ان تمام مقامات کی پیمائش کر کے انھیں آپس میں جمع کر لیا۔

چین کے سرکاری روزنامے کے مطابق چینی سروے ٹیم نے مشرقی صوبے شانڈونگ میں یلو سی کو سمندری سطح کے لیے استعمال کیا۔

دونوں اطراف سے سروے کرنے والے افراد نے سمٹ کی اونچائی کا حساب لگانے کے لئے ٹرگنومیٹری فارمولے (مثلثی فارمولے) بھی استعمال کیے۔ ان کے استعمال کردہ فارمولے میں چوٹی کا حساب لگانے کے لیے مثلث کے نچلے حصے کو زاویوں سے ضرب دی جاتی ہے۔

لیکن زمین پر جاری اس سب مشکل حساب کتاب کے لیے کسی کا تو پہاڑ کی چوٹی پر ہونا ضروری ہے۔ نیپال کی سروے ٹیم گذشتہ سال اس سمٹ پر گئی تھی جبکہ چین کی سروے ٹیم رواں برس مئی کے مہینے میں وہاں پہنچی تھی۔

نیپال کی جانب سے کورونا وائرس کے دوران تمام مہمات کو معطل کرنے اور چین کی جانب سے غیر ملکی مسافروں پر پابندی عائد کرنے کے باعث سنہ 2020 میں سمٹ تک پہنچنے والی واحد ٹیم چین کی تھی۔

نیپالی عہدیداروں نے بتایا کہ انھوں نے ایورسٹ سمٹ کے گرد 12 نچلی چوٹیوں کا استعمال کیا تاکہ وہ زیادہ درست نتائج حاصل کرسکیں۔ چینی میڈیا نے بتایا کہ چینی سروے ٹیم نے بھی یہی طریقہ استعمال کیا۔

سروے اور نقشہ جات کی چینی اکیڈمی میں ایسوسی ایٹ ریسرچر یانگ تاؤ نے چین کے سرکاری میڈیا چین ڈیلی کو بتایا کہ ’ایک بار جب سروے ٹیم چوٹی پر پہنچ گئی، تو چوٹی کے آس پاس کے سٹیشنوں پر موجود سروے ٹیم کے اہلکاروں نے چھ مقامات سے چوٹی تک کا فاصلہ ماپا تھا، جس کا مطلب ہے کہ پہاڑ کی اونچائی کا تعین کرنے کے لیے کم سے کم چھ مثلثوں سے حساب لگایا جاسکتا ہے۔‘

دونوں فریقین نے اپنے حساب کتاب کے دوران بلندی کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم کا بھی استعمال کیا۔

اس سے قبل چین ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی کی دو بار پیمائش کرچکا ہے۔ ایک مرتبہ 1975 میں اور دوسری 2005 میں۔

ہمالیائی ڈیٹا بیس کے مطابق دوسری سروے ٹیم کے ممبران نے سمٹ پر جی پی ایس ڈیوائس کا چینی ورژن نصب کیا تھا۔

اس مرتبہ چینی سروے ٹیم نے چین کا بی ڈائو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم استعمال کیا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کے زیر ملکیت عالمی پوزیشننگ سسٹم، یا جی پی ایس کا حریف ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق ’اس سسٹم سے موسم اور ہوا کی رفتار کے ساتھ ساتھ برف کی گہرائی کی پیمائش بھی کی جا سکے گی تاکہ گلئیشیر کی نگرانی کرنے کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ میں بھی مدد مل سکے۔‘

نیپالی سروے ٹیم نے اپنے حساب کتاب کے لیے جی پی ایس کا استعمال کیا۔

دھکال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی کا تعین کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر قبول شدہ طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا کو پراسس کیا ہے۔‘

حوالہ
بی بی سی اردو
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ