بلاگ

کورونا کے بعد مسقبل میں ہوائی سفر کیسے ہوا کریں گے؟

کویت اردو نیوز 23 نومبر: “فائزر” اور “موڈرنا” ویکسین کے مثبت نتائج کے بعد سفری قوانین تبدیل ہونے کا امکان۔

تحریر جاری ہے‎

کورونا وائرس کے خلاف دو کمپنیوں “فائزر” اور “موڈرنا” کی ویکسین کی تاثیر کا اعلان کرنے کے بعد اس خبر نے دنیا کو ایک امید دی ہے کہ شاید اب وبائی وائرس اپنے اختتام پر ہے۔ اس خبر کا سب سے خاص اثر ہوائی شعبے پر ہوا ہے۔کورونا کے بحران کے باعث دنیا بھر میں سفری پابندیوں سے اس شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے تاہم اس خبر کے ساتھ ہی یہ امید بھی جاگی ہے کہ اب ہوائی شعبے کو معاشی تقویت حاصل ہوگی۔ “سی این این عربی” کی رپورٹ مطابق ایئر لائنز اور فلائٹس کے حصص میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

تاہم اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ویکسین مارکیٹ میں آنے کے بعد بھی حالات پہلے جیسے ہوسکتے ہیں؟ کیا سفری تجربات اور چھٹیاں گزارنے کا پہلے جیسا لطف واپس آسکے گا؟

برطانیہ میں ٹری فائنڈرس ٹریول کلینک کے چیف فزیشن برائے ٹریول اسپیشلسٹ ڈاکٹر فیلیسی نکلسن کے مطابق اس کا جواب جاننے سے پہلے کچھ وقت لگے گا۔ نیکلسن نے کہا کہ “میرے خیال میں اس طرح کے معاملات معمول پر لوٹنا صرف وقت کی بات ہے لیکن اس میں زیادہ وقت درکار ہوگا۔ ” فی الحال سفری مقاصد کے لئے ٹیکہ لگانا ترجیحی فہرست سے دور ہے۔ نیکلسن نے واضح کہا کہ کوئی بھی ملک پہلے اپنے متاثرین پھر ہیلتھ کیئر کارکنان اور پھر عام عوام کو ویکسین فراہم کرے گا۔

فائزر ویکسین کی نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے سے متعلق عملی مسائل کا ذکر بھی کیا اگر اسے سرکاری منظوری مل جاتی ہے تو اسے تقسیم کرنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اگلے سال کے اوائل میں نکولسن نے وضاحت کی کہ اگر ممالک ویکسین کی خوراکیں صحیح طور پر منتقل اور ذخیرہ کرسکتے ہیں تو اگلے سال کے آغاز تک لے جاسکتا ہے۔

وہ ممالک جن کی معیشت سیاحت پر منحصر ہے وہ سیاحوں کو دوبارہ مدعو کرنے کے لئے بیتاب ہوں گے لیکن زیادہ تر ماہرین توقع نہیں کرتے ہیں کہ 2021 کے موسم خزاں تک ٹریول سیکٹر ٹھیک ہوجائے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک بار جب ویکسین ڈوزنگ پروگرام شروع ہوجائے تو آپ اگلے طیارے میں سوار ہوسکتے ہیں۔ نیکلسن کا خیال ہے کہ کچھ ممالک کا سفر کرنے کے لئے “کوویڈ 19” کے خلاف ویکسین لگانے کا ثبوت لازمی ہوسکتا ہے۔کورونا وائرس ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جسے مسافروں کو کچھ ممالک میں داخل ہونے کے لئے لازمی درکار ہے چند ممالک کو بخار کی ویکسینیشن کی ضرورت بھی ہوتی ہے ان کی ٹریول کِٹ میں یہ اگلا اضافہ ہوسکتا ہے۔

نکلسن کے اعتقاد کے مطابق مسافروں کے پاس سرکاری سرٹیفکیٹ ہوسکتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ایک تسلیم شدہ اور منظور شدہ کلینک میں “کوویڈ 19” ویکسین ملی ہے۔ نیکولسن نے مزید کہا کہ “یہ یقینی ہے کہ زیادہ تر ممالک میں جہاں آبادی زیادہ یا بزرگ افراد کی تعداد ذیادہ ہے مہلک وائرس کے خلاف ویکسین کی رسید ثبوت کے طور پر مانگی جائے۔

حوالہ
القبس
پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ