بلاگ

کویتی نوجوان نے تمام کویتی شہریوں کے لیے بہترین مثال قائم کر دی

کویت اردو نیوز 17 نومبر: کویتی نوجوان نے لونڈری (کپڑے دھونے والی دکان) کھول کر مثال قائم کر دی کہ کام کوئی بھی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بلکہ انسان کی سوچ اور اس کی محنت ہی اسے بڑے مقام تک لے کر جاتی ہے۔

اپنا الگ سے کام شروع کرنے والا ایک کویتی نوجوان جس کا نام حیدر الخضری ہے نے ایک مثبت اور بہترین نمونہ پیش کرتا ہے۔ حیدر الخضری کویت کے ایک نجی بینک میں ملازمت کرتا ہے لیکن ملازمت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اندر ایک خواہش اور مقصد تھا کہ وہ اپنا پروجیکٹ قائم کرے اور کویتی نوجوانوں کے روایتی نقطہ نظر کو تبدیل کرے کہ وہ راحت اور آرام پسند ملازمت سے جکڑے ہوئے ہیں۔

روزنامہ الانباء نے الخیران کے علاقے میں واقع ایک لونڈری کے کویتی نوجوان مالک حیدر الخضری سے ملاقات کی جہاں اس نے نوکری چھوڑنے اور اپنا پراجیکٹ قائم کرنے کی وجہ کے بارے میں بتایا اور اس نے کام میں آنے والے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتا ہے ، خواہ وہ کیش کاؤنٹر پر ہو یا آرڈرز کی فراہمی ہو یا آرڈر وصول کرنا ہو۔ دوران انٹرویو الخضری نے اپنے سامنے آنے والی رکاوٹوں کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح ثابت قدم رہے اور عزم سے ان پر کیسے قابو پایا۔ الخضری نے کویتی نوجوانوں کو ایک پیغام بھی دیا جس کی کی تفصیلات یہ ہیں۔

میں ایک کویتی نوجوان ہوں ، الخیران کے علاقے میں واقع “فریش اینڈ کلین” لونڈری کا مالک ہوں۔ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف شعبوں میں اعلی تعلیم اور سند حاصل کی لیکن مجھے اس کی خواہش تھی کہ میں کویتی نوجوانوں کے روایتی نقطہ نظر کو تبدیل کروں کہ وہ صرف دفتری کام اور سرکاری ملازمتوں کو ترجیح دیتے ہیں لہذا میں نے اپنا ایک پروجیکٹ بنایا جسے میں نے خود شروع کیا اور اس پر کام کرتا ہوں۔

میں نے کورونا وائرس کے بحران کے دوران لونڈری قائم کی۔ اس سے قبل میں کویتی بینک میں ملازم کی حیثیت سے کام کرتا تھا لیکن مجھے خیال آیا کہ میں خود ترقی کروں اور اپنی ماہانہ آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے محنت کروں اور روایتی ملازمت پر بھروسہ نہ کروں اور اللہ کا شکر ہے کہ اس سے حاصل شدہ آمدنی ، کامیابی اور مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پہلا قدم ثابت ہوئی۔ میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ کویت کے نوجوان جدت پسند ہیں اور تخلیقی صلاحیتیں رکھتے ہیں لہذا میں نے اس لونڈری کی بنیاد رکھی۔ لانڈری کے اندر اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کو میں نے یقینی بنادیا۔ میں کیش کاؤنٹر پر کام کرتا ہوں، گھروں میں آرڈر دیتا ہوں اور آرڈر بھی وصول کرتا ہوں اس کے علاوہ لونڈری میں مزید خصوصیات بھی تیار کی ہیں۔

کویتی نوجوان کی جانب سے لونڈری چلانے پر شروع میں علاقے کے لوگ حیران رہ گئے تھے لیکن اس کے بعد مجھے اپنے کام کے لئے ہر ایک کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہر منصوبے کے جیتنے یا ہارنے کا موقع ہوتا ہے اور معاملہ اس منصوبے کے مالک کے عزم پر منحصر ہوتا ہے۔

یقینی طور پر ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مثبت اور منفی دونوں ہیں اور مجھے کچھ منفی اور مایوس کن تبصرے بھی موصول ہوئے لیکن خدا کا شکر ہے کہ میں نے ان تبصروں پر توجہ نہیں دی بلکہ اس کے برعکس انہوں نے مجھے جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی دی۔

میری والدہ میری پہلی اور مرکزی حامی تھیں اور انہوں نے مجھے اپنا پروجیکٹ قائم کرنے کے لئے بہت حوصلہ افزائی کی اور انہوں نے ہمیشہ مجھے ان منفی تبصروں پر توجہ نہ دینے کا مشورہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کس طرح ایک کویتی شہری لونڈری میں کام کر سکتا ہے اور مجھے اپنے مقصد کے حصول کے لئے جاری رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

میں کویتی نوجوانوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ سرکاری ملازمت کے بارے میں روایتی سوچ سے دور ہو جائیں اور اپنا کاروبار کرنے اور نظریات کو متنوع بنانے پر عمل کریں اور تخلیقی صلاحیتوں، جدت اور ہر چیز کی نئی تلاش پر انحصار کریں۔ میں ان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے عزائم کو حاصل کریں اور ان تک پہنچنے والے محض منفی تبصروں سے نہ ڈریں بلکہ اس کے برعکس وہی منفی تبصرے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ