بلاگ

6 لاکھ کویتی دینار کی کبوتری کس نے خرید لی

ایک کہاوت تقریبا دنیا کے بیشتر ممالک میں‌عام ہے کہ ‘ہاتھ میں ایک پرندہ درخت پر دس سے بہتر ہے’۔ اسی طرح اگر ایک کبوتر ہاتھ میں ہے تو وہ فضا میں موجود ایک لاکھ کبوتروں سے بہتر ہے۔

کبوتروں کی ان کہاوتوں کی شہرت کے ساتھ ساتھ اس وقت کبوتر سےمتعلق ایک خبر عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز ہے۔ وہ یہ کہ بیلجیم میں کبوتروں کی ایک نیلامی کے دوران ایک کبوتری 19 لاکھ ڈالرمیں نیلام ہوئی جو کہ تقریبا 06 لاکھ کویتی دینار جبکہ پاکستانی 29 کروڑ بنتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌کے مطابق یہ کبوتری ایک چینی کاروباری شخص نے خرید کی ہے جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ یہ چینی دو سال قبل ریٹارڈ کردیا گیا تھا۔

بیلجیم میں نیلام ہونے والی اس نایاب کبوتری کا نام’ نیوکم’ ہے اور یہ سنہ 2018 میں درمیانی فاصلے کی کی متعدد ریس جیت چکی ہے۔
بیلجیم میں پرندوں کے نیلام گھر’پیپا’ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ‘Nikolaas Gyselbrecht ‘ نے بتایا کہ کبوتروں کی جس نسل سے ‘نیو کم’ کا تعلق ہے وہ افزائش نسل کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیلجیم میں بڑی تعداد میں پرندوں کے شوقین موجود ہیں۔ اسی بنا پر ملک کو کبوتروں کا گھر بھی کہا جاتا ہے جہا کم سے کم 20 ہزار سے کبوتر کیپر موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نیلام گھر کے مالک نے کہا کہ یہ ایک ریکارڈ ہے کہ کسی کبوتری کو 19 لاکھ ڈالر میں خریدا گیا ہے۔

جہاں تک کبوتر پالنے والے بیلجین خاندان کا تعلق ہے تو اس کا کہنا ہے کہ وہ کبوتری کی غیرمعمولی قیمت پر حیران ہے۔ تاہم یہ اتنی بھی حیرت کی بات نہیں کیونکہ ارمانڈو نسل کا ایک کبوتر کچھ عرصہ قبل اسی نیلام مرکز میں 14 لاکھ 20 ہزار ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔ یہ کبوتر بھی متعدد عالمی مقابلوں میں اپنی تیز اڑان کی طاقت ثابت کر چکا تھا۔

اسے جب نیلام کے لیے پیش کیا گیا تو چینی اس پرپل پڑے اور انہوں‌ نے یکے بعد دیگر اس کی قیمت کو 14 لاکھ ڈالر سے بڑھا دیا تھا۔ تاہم نیوکم کے خریدار کو اس پرمزید 4 لاکھ 80 ہزار ڈالر ادا کرنا پڑے تھے۔

کبوتر ریسنگ چین میں انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ خاص طور پر گذشتہ دس سالوں میں معاشی عروج کے ساتھ وہاں کبوتروں کی طلب اور مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

چینی زیادہ تر ایسی نسل کے کبوتروں بالخصوص مادہ کبوتر خرید کرتے ہیں جو 10 سال تک اپنی افزائش نسل کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ