بلاگ

پاکستان سے کویت براستہ دبئی 14 دن گزار کر آنے کا مکمل احوال

کویت کے لیے عازم سفر ہونا ان دنوں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

آخر کو اللہ کی توفیق سے اس مشکل کام کا بیڑا اٹھا لیا۔ چھٹیاں گزار لی تھیں اب واپسی کے لیے تگ ودو شروع کر دی۔ پہلے پہل یہ گمان تھا کہ یکم اگست کو کویت کے لیے پروازیں کھل جائیں گی اور 15 اگست تک حالات معمول کے مطابق ہوں گے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔

پروازیں پھر بند ہوئیں اور قرار دیا گیا کہ کویت آنے کے لیے 32 ممالک کے شہری ایسے ملک میں 14 دن گزار کر آئیں جس کی پروازیں کویت آ رہی ہیں۔ میرا براستہ دبئی جانے کا پروگرام بنا، اپنے ایک دوست کی وساطت سے سفری نمائندے نے دبئی کا ویزہ اور دیگر انتظامات کر دئیے۔ سفر شروع کرنے سے پہلے پی سی آر ٹیسٹ کھاریاں چغتائی لیب سے 6500 روپے میں کرایا۔ وقت پر اس کا نتیجہ موصول ہوا۔ اب میں سفر کرنے کے قابل تھا۔

15 اگست 2020 رات کو فلائٹ تھی۔ ایمریٹس ائیر ویز کی اسلام آباد سے پرواز شروع ہوئی۔ وقت مقررہ پر دبئی پہنچے۔ وہاں ائیر پورٹ پر پی سی آر ٹیسٹ لیا گیا۔ اس کے نتیجے کے لیے امارات میں مقیم کسی دوست کا نمبر دیا کیونکہ نتیجہ موصول کرنے کے لیے یہ لازمی تھا۔ خیر ٹیسٹ ہوا دونوں نتھنوں میں پلاسٹک کے پیس کے آگے روئی کا ٹکڑا لپیٹ کر خوب گھمایا گیا۔ ہوٹل کی بکنگ کی جا چکی تھی اس لیے ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی وساطت سے 20 منٹ کے بعد منزل مقصود پر تھے۔ سطوہ میں واقع الخوری ایگزیکٹو ہوٹل میں رہائش تھی وہاں جا کر مجھے بتایا گیا کہ سیاحت کا ٹیکس ادا کرنا ہے لہذا 180 درہم 17 دن کے ادا کئے۔ روم نمبر 231 میں جاگزیں ہو گئے۔ اب یہ 14 دن راوی نے چین ہی لکھا۔

صبح ناشتہ، شام کو کھانا، دن کو ہلکا پھلکا، دوست ملاقات کے لئے بھی آتے رہے۔ پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ تک تاکید تھی کہ گھر کے اندر ہی رہیں۔ ان کی بات مانی گئی۔ دوسرے دن رپورٹ آ گئی کہ کورونا نہیں ہے۔ الحمدللہ!

پھر پہلا دن چھوڑ کے 14 دن گزارنے کے بعد 15 ویں دن 31 اگست پھر پی سی آر کرایا۔ دبئی ہیلتھ کیئر سٹی میں امارات سپیشلٹی ہسپتال میں یہ ٹیسٹ ہوا۔ یکم کو ایس ایم ایس آ گیا لیکن لنک اوپن نہیں ہو رہا تھا۔ تھوڑی پریشانی بنی لیکن سوچا کہ کیوں نہ ہسپتال جا کر چیک کیا جائے۔ ادھر جاتے ہی کام ہو گیا۔ 250 درہم ان کی فیس تھی۔ سارے لوازمات پورے کرنے کے بعد 2 ستمبر کو دبئی ایئرپورٹ پہنچے۔ چیک ان کاؤنٹر پہ مجھے پہلا سوال ہوا کہ شلونک ایپ دکھاؤ میں نے دکھائی لیکن ایکٹیو نہیں تھی کہا گیا کہ جب تک یہ ایکٹیو نہیں ہو گی بورڈنگ پاس جاری نہیں ہو گا۔ میں نے اس وقت کوشش کی اور اللہ کے فضل سے ایکٹیو کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ دوسرا مسلہ یہ تھا کہ میرے پاس موبائل آئی ڈی تھا اور اوریجنل آئی ڈی ابھی زیر تعمیر ہے۔ وہ تو خیر مان لیا گیا۔

کوت اردو نیوز کے یوٹیوب چینل کو تازہ ترین خبروں کے لئے ضرور سبسکرائب کریں

خدا خدا کر کے بورڈنگ کا عمل مکمل ہوا تو میں نے مرحبا وی آئی پی لانج میں انتظار کی ٹھانی۔ جیسے ہی پرواز کا وقت ہوا ادھر بھی سارے اوراق باردگر پی سی آر، شلونک ایپلیکیشن، موبائل آئی ڈی چیک کیے گئے۔ سوار ہوئے وقت مقررہ پر کویت پہنچے، وہاں بھی سارے اوراق چیک کئے گئے۔

ایک مزید پیپر شلونک ایپ کے مندرجات کے لیے رقم کیا گیا۔ وہاں سے نام اور موبائل نمبر کا اسٹیکر پاسپورٹ پر لگایا گیا۔ پھر امیگریشن کے بعد خیریت سے سامان لیا اور باہر نکل آئے۔ گھر آ کر شلونک ایپ کو اپڈیٹ کیا۔

اب گھر میں 14 دن کا قرنطین ہے۔
اب گھر میں ہم ہیں اور پاکستان کی بھولی بسری یادیں ہیں۔

پوری خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں شکریہ

4 تبصرے

  1. اسلام علیکم 18 فروری کویت سے آیا ہوں میرا والد صاحب آپریشن کیلئے اور کینسر مریض تھا ایک سال زیادہ ہوا روالپنڈی CMH جاری ہے لیکن میرا ویزا 3مہنے باقی ہے ابھی 7ساتھ مہینے ہوا والد صاحب پر بہت خرچہ ہوا تقریبا 25لاکھ روپے لکھا گیا ابھی خرچے کاپیسے بھی نہیں ہے کویت حکومت ابھی تک اعلان نہیں کیا ہم سب پاکستانی کویت حکومت کو اپیل کرتا ہوں کہ دبئی یا اور ملک ویزٹ ویزہ 15 دنوں اوراس زیادہ دن دوسری ملک جانا یہ ہم بھی نقصان ہے اور کویت حکومت کو بھی نقصان ہے پہتر ہے کہ کویت حکومت میں 15 دن قرتینہ کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

آپ اس خبر کو کاپی نہیں کرسکتے ہیں

ایڈ بلاک پتہ چلا

برائے مہربانی ایڈ بلاک کو بند کریں شکریہ